تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 399

سُوْرَۃُ التَّطْفِیْفِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ تطفیف۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ سِتٌّ وَّ ثَلٰثُوْنَ اٰیَۃًدُوْنَ الْبَسْمَلَۃِ اور بسم اللہ کے علاوہ اس کی چھتیس ۳۶آیات ہیں۔سورۃ تطفیف مکی ہے اس سورۃ کے مکّی یا مدنی ہونے کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض لوگوں کا خیا ل ہے کہ اس سورۃ کی پہلی چھ آیات مدنی ہیں۔گویا يَوْمَ يَقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَتک مدنی آیات ہیں اور بعض کے نزدیک یہ ساری سورۃ ہی مدنی ہے (اتقان فی علوم القرآن ،الدرمنثور ) لیکن اکثر مفسّرین کی یہ رائے ہے کہ یہ سورۃ مکی ہے۔چنانچہ ہمارے ملک میں جو قرآن شریف شائع ہوتے ہیں اُن پر سُوْرَۃُ التَّطْفِیْفِ مَکِّیَّۃٌ ہی لکھا ہوتا ہے۔جن یوروپین محققین نے اس پر بحث کی ہے تعجب ہے کہ اپنے اصول کے خلاف انہوں نے بھی اسے مکّی قرار دیا ہے حالانکہ اُن کے معترضانہ میلانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُنہیں اسے زبردستی بھی مدنی قرار دینا چاہیے تھا خصوصاً جبکہ بعض مفسّرین کی تصدیق انہیں حاصل ہو گئی تھی۔لیکن یہ خدا تعالیٰ کا تصرّف ہے کہ انہوں نے اِسے مکی ہی قرار دیا ہے اور پھر مکی بھی ابتدائی سورتوں میں سے۔چنانچہ نولڈکے NOLDEKE جرمن پروفیسر اور میور MUIRدونوں اِسے چوتھے سال قبل ہجرت کے قریب کی بتاتے ہیں (تفسیر القرآن از وہیری جلد۴ صفحہ ۲۲۶)اور یہی رائے درست ہے کہ یہ مکّی اور ابتدائی زمانہ کی ہے۔سورۃ کو مکی یا مدنی قرار دئیے جانے کے اصول اور ان کی حقیقت سورتوں کے مکی یا مدنی قرار دینے کی بنیاد اول تو روایات پر ہوتی ہے جن کو بیان کرنے والے بعض دفعہ تو اُس وقت کے مسلمان ہوتے ہیں جس وقت وہ سورۃ نازل ہوئی اور وہ بتاتے ہیں کہ ہمارے علم میں یہ سورۃ فلاں وقت نازل ہوئی ہے اور بعض لوگ اپنا علم نہیں بتاتے بلکہ اس امرپر قیاس کر کے رائے لگاتے ہیں کہ ہم فلاں وقت مدینہ میں گئے تھے اور یہ سورۃ پڑھی گئی تھی اس لئے اُس وقت کی نازل شدہ ہے۔حالانکہ پہلے کی نازل شدہ سورۃ بھی تواُس وقت پڑھی جا سکتی ہے۔تیسرےؔ بعض واقعات جو سورۃ میں مذکور ہوں اُن کی بناء پر زمانہ نزول مقرر کیا جاتا ہے۔چوتھے بعض الفاظ کی بناء پر جن کی نسبت مفسرین یا مستشرقین یہ فیصلہ کر لیتے ہیں کہ یہ صرف مکی یا مدنی زمانہ میں استعمال ہوتے تھے فیصلہ کیا جاتا ہے کہ سورۃ