تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 368

کَوْکَبٌ کا لفظ اپنے اندر کثیر معنے رکھتا ہے جو یہ ہیں:۔(۱)اَلنَّجْمُ۔ستارہ (۲)نُقْطَۃٌ بَیْضَائُ تَحْدُثُ فِی الْعَیْنِ۔آنکھ کا پھولا۔(۳)مَا طَالَ مِنَ النَّبَاتِ۔جو روئیدگی لمبے قد کی ہو۔اس کوبھی کوکب کہتے ہیں۔(۴)سَیِّدُ الْقَوْمِ وَفَارِسُھُمْ۔قوم کا سردار اور ان کا جرنیل۔(۵)شِدَّۃُ الْـحَرِّ۔گرمی کی شدّت۔(۶)اَلسَّیْفُ۔تلوار (۷) اَلْمَائُ۔پانی (۸) اَلْمَجْلِسُ۔مجلس کو بھی کوکب کہتے ہیں جہاں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔(۹)اَلْمِسْمَارُ۔کیل کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۰)اَلخِطَّۃُ یُخَالِفُ لَوْنُھَا لَوْنَ اَرْضِھَا۔کوکب اس زمین کو بھی کہتے ہیں جس کا رنگ پاس کی زمینوں سے مختلف ہو (۱۱) اَلطَّلْقُ مِنَ الْاَوْدِیَۃِ۔وسیع وادی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۲)الرَجُلُ بِسِلَاحِہِ۔مسلّح آدمی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۳) اَلْجَبَلُ۔پہاڑ کو بھی کہتے ہیں۔(۱۴)اَلْغُلَامُ الْمُرَاھِقُ اُس لڑکے کو بھی کوکب کہتے ہیں جو جوانی کے قریب پہنچا ہوا ہو (۱۵) اَلْفُطْرُ کھمبی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۶) مُعْظَمُ الشَّیْءِ کسی چیز کے بڑے حصے کو بھی کوکب کہتے ہیں۔(۱۷) نُوْرُ الرَّوْضَۃِ باغ کی کلی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۸)بَرِیْقُ الْحَدِیْدِ وَتَوَقَّدُہ۔گرم ہو کر جو لوہے میں چمک پیدا ہوتی ہے اسے بھی کوکب کہتے ہیں (۱۹) کَوْکَبٌ مِنَ الْبِئْرِ عَیْنُھَا الَّذِیْ یَنْبَعُ الْمَائُ مِنْہُ۔کنوئیں کے سوتے کو بھی کوکب کہتے ہیں جس میں سے پانی نکلتا ہے (۲۰)کہر کو بھی کوکب کہتے ہیں۔نیز عربی زبان کا محاورہ ہے ذَھَبُوْا تَحْتَ کُلِّ کَوْکَبٍ جس کے معنے ہیں تَفَرَّقُوْا۔وہ الگ الگ ہو گئے (۲۱) یَوْمٌ ذُوْ کَوَاکِبَ کے معنے ہوتے ہیں ذُوْ شَدَائِدَ یعنی ایسا دن جو بلائوں اور مصیبتوں سے پُر ہو (اقرب) غرض کَوْکَب کے وسیع معنے ہیں۔کوکب ستاروں کو بھی کہتے ہیںسردارانِ قوم کو بھی کہتے ہیں اور قوم کے جرنیل کو بھی کہتے ہیں۔اِنْثَتَرَتْ۔اِنْثَتَرَتْ نَثَـرَ سے ہے اور نَثَـرَ الشَّیْئَ کے معنے ہوتے ہیں رَمَاہُ مُتَفَرِّقًا اُس نے کسی چیز کو اس طرح پھینکا کہ وہ بکھر گئی اور تَنَاثَرَ وَتَنَثَّرَ وَانْتَثَرَ الشَّیْئُ کے معنے ہوتے ہیں۔تَسَاقَطَ مُتَفَرِّقًا کوئی چیز متفرق ہو کر گر گئی۔عرب کہتے ہیں۔تَفَرَّقَ الْقَوْمُ وَتَنَثَّرُوا۔یعنی قوم منتشر ہو گئی اور بکھر گئی (اقرب) تفسیر۔اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْاوراِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ہر دو آیات کے مضمون میں ایک فرق اس جگہ یہ امر ضرور یاد رکھنا چاہیے کہ اس سے پہلی سورۃمیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا وَاِذَاالنُّجُوْمُ انْکَدَرَتْاور یہاں فرمایا ہے وَاِذَاالْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ درحقیقت یہ دو الگ الگ باتیں ہیں جو ایک خاص فرق کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔اسی لئے وہاں نـجُوم کا لفظ رکھا گیا تھا اور یہاں کواکب کا لفظ رکھا گیا ہے۔پھر وہاں انکدار کا لفظ رکھا گیا تھا اور یہاں اِنْتِثَار کا لفظ رکھا گیا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انکدار کے معنے بھی انتثار کے ہی ہوتے ہیں مگر یہاں الفاظ اللہ تعالیٰ نے بدل دیئے ہیں۔حالانکہ لفظوں کا بدلنا ضروری نہیںقرآن کریم میں ایک ایک آیت تین تین چار چار جگہوں میں آئی ہے۔پس یہ نہیں کہ قرآن کریم نے یہ اصول مقرر کیا ہوا ہو کہ جب وہ دوسری دفعہ وہی مضمون بیان کرے تو الفاظ کو ضرور بدل دیتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم الفاظ کو دہرا بھی دیتاہے اس لئے ان آیات میں الفاظ کے بدلنے میں ضرور کوئی حکمت ہونی چاہیے اگر انکدار کا لفظ اِنْتِثَار کے معنوں میں واقعہ ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ اِنْکَدَرَتْ کی بجائے اِنْتَثَـرَتْ بھی کہہ سکتا تھا اور اگر یہاں انتثار بمعنے انکدار ہے تو یہاں انتثرت کی بجائے انکدرت بھی کہا جا سکتا تھا۔کیونکہ قرآن کریم میں کئی آیتیں ایسی موجود ہیں جن میں ایک ہی مضمون بیان کرنے کے لئے پہلے ہی الفاظ کو دُہرایا گیا ہے پس قرآن کریم کے اس طریق عمل کو دیکھتے ہوئے کہ وہ الفاظ کے دُہرانے سے اجتناب کرنے کو ضروری نہیں سمجھتا یہاں الفاظ کا بدل دینا بتا رہا ہے کہ ان دونوںکے مفہوم میں کوئی فرق ہے۔