تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 369

الفاظ کے دُہرانے سے اجتناب کرنے کو ضروری نہیں سمجھتا یہاں الفاظ کا بدل دینا بتا رہا ہے کہ ان دونوںکے مفہوم میں کوئی فرق ہے۔نجم اور کوکب کے معنے میں فرق اس تمہید کے بعد میں یہ بتاتا ہوں کہ نجم کی تشریحات کو جب ہم لغت میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا زور اصل کے معنوں پر ہوتا ہے چنانچہ نجمؔ کے ایک معنے یہ بتائے جا چکے ہیں کہ جس کی ساق نہ ہواور یہ لازمی بات ہے کہ جس چیز کی ساق نہ ہو گی وہ لمبی نہیں ہو سکے گی۔وہ پودہ جس کی جڑ نہ ہو وہ اونچا کس طرح ہو سکتا ہے مگر کوکب کے ایک معنے لغت میں یہ لکھے ہیں کہ مَاطَالَ مِنَ النَّبَاتِ وہ روئیدگی جو لمبے قد کی ہو۔پھر کوکب کے ایک معنے سَیِّدُ الْقَوْمِ وَفَارِسُھُمْ کے کئے گئے ہیں گویا اس میں فن اور مہارت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ فارِس جرنیل کو کہتے ہیں پس نجم میں ہنر کی طرف نہیں بلکہ نسل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور کوکب میں نسل کی طرف اتنا اشارہ نہیں پایا جاتا جتنا ہنر کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔اِدھر کوکب کے ایک معنے شِدَّۃُ الْحَرِّ کے بھی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کواکب سے مراد ایسے لوگ ہوتے ہیں جن میں کام کرنے کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے اُن کی طبیعت میںتیزی ہوتی ہے اوروہ سیف ماضی کے طور پر قوم میں اثر اور رسوخ رکھتے ہیں۔یہ فرق بتا رہا ہے کہ پہلی آیت اور نجوم اور اِس آیت میںکواکب اور اسی طرح پہلی آیت میں انکدرت اور اس آیت میں انتثرت کے الفاظ کا استعمال بلا وجہ نہیں بلکہ ان میں بہت بڑی حکمت پائی جاتی ہے۔انکدار اور انتثار کے معنے میں فرق اصل بات یہ ہے کہ انکدار کے معنے گدلا ہو جانے کے ہیں اور انتثار کے معنے ٹوٹ کر متفرق ہوجانے کے ہیں پس سورۂ تکویر کی آیت وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ میں اس طرف اشارہ کیا گیا تھا کہ نسلی رئوسا کا پبلک میں رسوخ کمزور ہو جائے گا اور وَاِذَاالْکَوَاکِبُ انْتَثَرَتْ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ صاحبِ فن اور ہنر لوگ بھی محض اپنے فن اور ہنر کےزورسے وہ رسوخ جو پہلے پیدا کر لیا کرتے تھے نہ کر سکیں گے یعنے یورپ کی ترقی کے سلسلہ میں جو تغیّرات پیدا ہوں گے اُن کے نتیجہ میں بڑے بڑے ماہرین فن کی طاقتیں بالکل ٹوٹ جائیں گی چنانچہ دیکھ لو یہ دونوں باتیں اس زمانہ میں پوری ہو گئی ہیں غیر عیسائی ممالک میں علماء تو موجود ہیں مگر ان کا رسوخ زائل ہو چکا ہے یا بڑے بڑے فنکار تو پائے جاتے ہیں مگر اُن کا اثر باقی نہیںرہا اور عیسائی ممالک میں اِن تغیّرات کی وجہ سے پارلیمنٹیں بن گئی ہیں۔اُمراء اور رئوسا کی طاقتیں بالکل ٹوٹ گئی ہیں اور امراء اور ماہرین فنوں کی جگہ لیبر پارٹیوں اور کمیونسٹ پارٹیوں وغیرہ نے لے لی ہے پس یہ علامت بھی اس تغیّر پر دلالت کرتی ہے جو یورپ کی ترقی کے سلسلہ میں ظاہر ہوا ہے۔غیر عیسائی ممالک میں بھی یوروپین ممالک کی نقل میں یہ تغیر