تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 367 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 367

سخت آفت آ جائے گی اور اتنا شدید ظلم ہو گا کہ اس سے بڑا ظلم اور کوئی نہیں ہو سکتا۔آسمان کے پھٹنے سے مراد آسمانی لوگوں کے دلوں کا زخمی ہونا آسمان پھٹ جانے کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ آسمانی وجودوں کے دل اس شرک کو دیکھ کر زخمی ہو جائیں گے۔خدا تعالیٰ کو یہ بات سخت بُری لگے گی فرشتوں کو اس سے تکلیف ہو گی اور انبیاء کے دل اس کو دیکھ کر تڑپ اٹھیں گے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسَّلام نے لکھا بھی ہے کہ مَیں نے حضرت مسیح ؑ کو کشفی حالت میں دیکھا کہ وہ اس تکلیف سے تڑپ رہے ہیں کہ میرے نام پر دُنیا میں اس طرح ظلم ہو رہا ہے۔(نور الحق روحانی خزائن جلد ۸ صفحہ ۵۶،۵۷) غرض اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ عیسائیت کا غلبہ ہو جائے گا اور آسمان پر جوش پیدا ہو جائے گا کہ دُنیا پر اتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے جس کی مثال اور کہیں نہیں ملتی گویا یہ ایک ایسی آفت ہو گی جو بے مثال ہو گی۔حضرت خلیفۂ اوّلؓ کسی بزرگ کا ایک ذوقی لطیفہ سُنایا کرتے تھے کہ انہوں نے کہا کہ ضَآلِّیْن پر جوشدّ اور مدّ اکٹھی ہیں اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ عیسائی فتنہ بڑا سخت ہو گا۔اور پھر بڑا لمبا ہو گا۔وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ۰۰۳ اور جب ستارے جھڑ جائیں گے۔حَلّ لُغَات۔کَوَاکِبُ۔کَوَاکِبُ کَوْکَبٌ کی جمع ہے۔اور جب کَوْکَبَ الْحَدِیْدُ کہیں تو اس کے معنی ہوتے ہیں بَرِقَ وَتَوَقَّدَ یعنی لوہا آگ میںگرم کرنے پر سُرخ ہو گیا۔اور چمکنے لگ پڑا۔کَوْکَبٌ کا لفظ اپنے اندر کثیر معنے رکھتا ہے جو یہ ہیں:۔(۱)اَلنَّجْمُ۔ستارہ (۲)نُقْطَۃٌ بَیْضَائُ تَحْدُثُ فِی الْعَیْنِ۔آنکھ کا پھولا۔(۳)مَا طَالَ مِنَ النَّبَاتِ۔جو روئیدگی لمبے قد کی ہو۔اس کوبھی کوکب کہتے ہیں۔(۴)سَیِّدُ الْقَوْمِ وَفَارِسُھُمْ۔قوم کا سردار اور ان کا جرنیل۔(۵)شِدَّۃُ الْـحَرِّ۔گرمی کی شدّت۔(۶)اَلسَّیْفُ۔تلوار (۷) اَلْمَائُ۔پانی (۸) اَلْمَجْلِسُ۔مجلس کو بھی کوکب کہتے ہیں جہاں لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے۔(۹)اَلْمِسْمَارُ۔کیل کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۰)اَلخِطَّۃُ یُخَالِفُ لَوْنُھَا لَوْنَ اَرْضِھَا۔کوکب اس زمین کو بھی کہتے ہیں جس کا رنگ پاس کی زمینوں سے مختلف ہو (۱۱) اَلطَّلْقُ مِنَ الْاَوْدِیَۃِ۔وسیع وادی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۲)الرَجُلُ بِسِلَاحِہِ۔مسلّح آدمی کو بھی کوکب کہتے ہیں (۱۳) اَلْجَبَلُ۔پہاڑ کو بھی کہتے ہیں۔(۱۴)اَلْغُلَامُ