تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 363
یاد کر سکتے ہیں۔سورۃ اخلاص اور سورہ کوثر کتنی چھوٹی چھوٹی سورتیں ہیں پوری دودو سطر کی بھی نہیں ہیں بلکہ اگر باریک لکھی جائیں تو ایک سطر میں ختم ہو جاتی ہیں اور معمولی حافظہ کا چار سال کا بچہ بھی اُس کو یاد کر سکتا ہے۔سورۂ بقرہ اڑھائی پاروں کی ہے اور ان کے درمیان مختلف درجوں کی سورتیں ہیں کوئی تین پانچ دس یا پندرہ آیت کی۔کوئی بیس تیس اور ساٹھ آیت کی اور کوئی سو آیت کی۔اِسی طرح سورتیں بڑھتی چلی جاتی ہیں پس کسی لیاقت اور حافظہ کا آدمی نہیںجو قرآن کریم کی کوئی سورۃ یاد نہ کر سکتا ہو۔اور جس کا حافظہ تیز ہو وہ تو سارا قرآن یاد کر لیتا ہے چنانچہ اس پر عمل ہو رہا ہے اور وہ مسلمان جو تعلیم یافتہ ہیں آخری دو تین پاروں کی سورتیں علیٰ قدر مراتب یاد کر لیتے ہیں۔اِس طرح ایک ہی وقت میں قرآن کریم کے مختلف ٹکڑوں کے لاکھوں حافظ موجود ہوتے ہیں سارے قرآن کے حافظ الگ رہے۔بظاہر یہ کتنی چھوٹی سی بات ہے مگر دنیا کی زندگی چھ ہزار سال کی سمجھو یا لاکھ کی یا دس لاکھ کی۔اگر کسی انسان نے یہ بات بنائی ہے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی انسان کو یہ بات نہیں سوجھی آخر دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو قرآن مجید کو انسانی کلام سمجھا جائے یا خدا ئی کلام سمجھا جائے۔اگر کہو کہ یہ انسانی کلام ہے تو پھر دنیا میں جو انسانی کلام ہیں ان میں سے کسی میں بھی یہ بات نہیں اور آج تک کسی انسان کو یہ بات نہیں سوجھی بلکہ قرآن کریم کے نازل ہونے کے بعد بھی نہیں سوجھی۔اور اگر یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ اس کتاب کے متعلق اس کا منشا تھا کہ اسے یاد کیا جائے تبھی اُس نے یہ تدبیر کی۔اگر انسانی کلام سمجھ لو تب بھی اس کی فوقیت ثابت ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک چھوٹے سے گُر کے ذریعہ اُس نے کایا پلٹ دی۔اور اگر خدائی کلام سمجھ لو توتب بھی ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ اس کو محفوظ رکھنا چاہتا تھا۔قرآن مجید کا مختلف ٹکڑوں میں اترنا اس کی فوقیت کا موجب اگر کوئی کہے کہ کوئی ٹکڑہ تو جس کتاب میں سے چاہے انسان یاد کر سکتا ہے پس اس طرح ٹکڑے کرنے سے قرآن کریم کو کون سی خصوصیت حاصل ہو گئی تو اس کا جواب یہ ہے کہ بیشک کتاب میں سے کوئی ٹکڑہ انسان یاد کر سکتا ہے مگر کیا ہر شخص اس بات کا بھی فیصلہ کر سکتا ہے کہ وہ ٹکڑہ اپنے اندر کامل مضمون رکھتا ہے۔یہ تو مصنّفِ کتاب یا منزلِ کتاب ہی بتا سکتا ہے کہ اُس کا کون کون سا ٹکڑہ اپنی ذات میں مکمّل ہے قرآن شریف کا ہر ٹکڑہ صرف چند آیتوں کا نام نہیں بلکہ ایک مکمّل مضمون کا نام ہے کوئی تین آیتیں سورہ بقرہ کی انسان یاد کر لے تو اسے کیا فائدہ ہو سکتا ہے بسا اوقات وہ تین آیتیں کسی مکمّل مضمون پر مشتمل نہ ہوں گی اور جب تک سیاق و سباق کو نہ ملایا جائے گا وہ اپنے مفہوم کو واضح نہیں کریں گی لیکن سورۂ اخلاص کو لے لو تو گو وہ دو سطر کی بھی سورۃنہیں مگر اُس میں ایک سارا مضمون بیان کر دیا گیا ہے اسی طرح سورۂ کوثر لے لو یا سورۂ لہب کو