تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 364

لے لو سب اپنے اپنے مضامین کے اعتبار سے بالکل مکمّل ہیں لیکن اور سورتوں کا اگر اتنا ہی کوئی ٹکڑہ لے لیا جائے تو جہاں تک مضمون کا تعلق ہے ضروری نہیں کہ اُس میں مکمّل مضمون آجائے مگر جب مصنف یا منزلِ کتاب ٹکڑوں کو الگ الگ کر دے تو پھر اس میں سہولت ہو جاتی ہے پس قرآن کا صرف کوئی ٹکڑہ یاد کر لینا وہ فائدہ نہیں دے سکتا تھا جو فائدہ موجودہ صورت میں پہنچ رہا ہے اور وہ تحریک بھی پیدا نہیں کر سکتا تھا جو موجودہ صورت میں قلوب میں پیدا ہوتی ہے چنانچہ اس بات کا یہ نتیجہ ہے کہ اگر عیسائیوں سے پوچھا جائے کہ انہیں انجیل کے کتنے ٹکڑے یاد ہیں تو شائد چند معروف ٹکڑے انہیں یاد ہوں تو ہوں ورنہ ساری انجیل مختلف ٹکڑوں کی صورت میں ان کو یاد نہیں ہو گی۔لیکن اگر قرآن کے متعلق پوچھا جائے تو سارا قرآن مختلف ٹکڑوں کی صورت میں غیر حافظ لوگوں کو بھی یاد ہو گا۔کسی کو سورۃ بقرہ یاد ہو گی کسی کو سورۂ آل عمران یاد ہو گی کسی کو سورۂ نساء یاد ہوگی اور کسی کو آخری سورتوں میں سے کوئی سورتیں یاد ہوں گی تو علیحدہ تقسیم کی وجہ سے حفظ میں جو مدد ملی ہے وہ اکٹھا لکھنے کی صورت میں نہیں مل سکتی تھی اور اسی حکمت کے ماتحت ان کی تقسیم کی گئی ہے۔غرض گو اس سورۃ کا مضمون پہلی سورۃ کے مضمون کے تسلسل میں ہے مگر اسے الگ اس لئے کیا گیا ہے کہ اس میں بعض جدید مضامین کی طرف توجہ دلائی گئی جو گو تعلق تو اسی سلسلہ سے رکھتے ہیں مگر ان کی نوعیت اور رنگ کی ہے اور جیسا کہ مَیں نے بتایا ہے قرآن کریم کی یہ خصوصیت ہے کہ مضمون جہاں مختلف ہوتا ہے وہاں الگ سورۃ بنا دی جاتی ہے تاکہ اس کا پڑھنا اور یاد کرنا کمزوروں پر بھی گراں نہ گزرے۔بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں)اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ۰۰۲ جب آسمان پھٹ جائے گا۔حَلّ لُغَات۔اِنْفَطَرَتْ اِنْفَطَرَتْ اِنْفَطَرَ سے مؤنث کا صیغہ ہے اور اِنْفَطَرَ الشَّیْئُ کے معنے ہیں اِنْشَقَّ کوئی چیز پھٹ گئی (اقرب) پس اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ کے معنے ہوں گے جب آسمان پھٹ جائے گا۔تفسیر۔اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْمیں عیسائیت کے تمام دنیا میں چھا جانے کی طرف اشارہ اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْ میں آخری زمانہ کے اُس تغیر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جو عیسائیت سے وابستہ ہے یعنی عیسائیت