تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 362
سُوْرَۃُ الْاِنْفِطَارِ مَکِّیَّۃٌ سورۃ انفطار۔یہ سورۃ مکی ہے وَھِیَ دُوْنَ البَسْمَلَةِ تِسْعُ عَشَرَةَ اٰیَةً اور اس کی بسم اللہ کے علاوہ اُنیس ۱۹ آیات ہیں۔سورۃ الانفطار کا تعلق پہلی سورۃ سے سُورۃ الانفطار کا مضمون پہلی سورۃ کے مضمون کےتسلسل میں ہے اسے الگ اس لئے کیا گیا ہے کہ اس میں اسی سلسلہ کی ایک مستقل کڑی کو بیان کیا گیا ہے۔گویا مضمون تو وہی ہے مگر اُس کی ایک دوسری قسم بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسی علامتیں جو مسیحیت کے ساتھ خاص ہیں وہ اس جگہ اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں۔اِس بات کی حکمت کہ کیوں دو ٹکڑے کر دئے گئے ہیں ایک تو یہی ہے کہ بعض حصّے بعض مضمونوں کے خاص ہوتے ہیں اُن پر زور دینے کے لئے اُن کو الگ کر دیا جاتا ہے۔قرآن مجید کی ایک خصوصیت دوسری حکمت جو قرآن کریم کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہے اور گووہ ایک چھوٹی سی بات ہے مگر اس سے قرآن کریم کے ماننے والوں کو بہت فائدہ پہنچاہے یہ ہے کہ قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ تھا اور قرآن کریم آخری الہامی کتاب تھی جس کی وجہ سے اس کے مضامین کو اس کے ماننے والوں کے قلوب میں پختہ کرنا نہایت ہی اہم سوال تھا پہلی کتابوں کو اگر اُن کے ماننے والے بُھول بھی جاتے تو اس میں کوئی حرج نہ تھا۔کیونکہ اُن کی جگہ اور کتابیں آنے والی تھیں لیکن قرآن کریم آخری شرعی کتاب تھی اگر لوگ اس کو بھول جاتے تو دُنیا میں تباہی آ جاتی۔اور لوگ ہمیشہ کی گمراہی میں مبتلا ہو جاتے۔قرآن کریم کو مختلف ٹکڑوں میں اتارے جانے کی وجہ پس اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی تدبیر اختیار کی جو بظاہر بالکل چھوٹی سی ہے مگر نتیجہ کے لحاظ سے اتنی اہم ہے کہ اُس کی قیمت کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔اور وہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو مختلف ٹکڑوں میں بیان کیا گیا۔اور پھر وہ ٹکڑے ایسی ترتیب سے بنائے گئے کہ چھوٹے سےچھوٹے ٹکڑہ سے لے کر بڑے سے بڑے ٹکڑہ تک اس کو تقسیم کر دیا گیا جس کی وجہ سے چھوٹا بچہ بھی اُس کا کچھ حصہ یاد کر سکتا ہے اُس سے بڑا بھی یاد کر سکتا ہے اُس سے بڑا بھی اور اُس سے بڑا بھی۔ادنیٰ سے ادنیٰ حافظہ والا بھی اس کا کچھ حصہ یاد کر سکتا ہے اور پھر اس سے اوپر جیسے جیسے حافظے بڑھتے چلے جائیں وہ اس کے مختلف ٹکڑے