تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 359

نہیں بلکہ تمام اہل زمین سے خطاب ہے اور لِمَنْ شَآءَ سے مراد لِمَنْ شَآءَ مِنْ سُکَّانِ الْعَالَمِیْنَ ہے کہ کسی زمانہ میں کسی فطرت کا آدمی آجائے قرآن میں اُس کی ہدایت کا سامان موجود ہو گا۔بے شک اس میںبعض چیزیں ایسی ہیں جو تمہاری فطرت یا تمہارے زمانہ کے مطابق نہیں ہیں اور تمہیں یہ پاگل پن کی باتیں نظر آتی ہیں مگر ہم اُن کا ذکر چھوڑ نہیں سکتے کیونکہ قرآن صرف تمہارے لئے نہیں بلکہ ہر زمانہ کے لئے ہے۔وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَؒ۰۰۳۰ اور تم یہ نہیں چاہ سکتے مگر اسی صورت میں کہ اللہ (جو) سب جہانوں کا رب (ہے) ایسا ہی چاہے۔تفسیر۔پہلے میں وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ کے صرف یہ معنے سمجھا کرتا تھاکہ وَمَا تَشَآءُ وْنَ میں وائو حالیہ ہے اور میں پچھلی آیت سے ملا کر اس کے یہ معنے کیا کرتا تھا کہ جو تم میں سے سیدھی راہ پر چلنا چاہے درآنحالیکہ اس کی مشیت خدا کی مشیت کے مطابق ہو جائے وہ ہدایت پا جائے گا لیکن اب میں اس کے ایک اور معنے سمجھتا ہوں جو ترتیبِ مضمون کے اعتبار سے بھی پہلے معنوں پر مقدّم ہیں۔اس ضمن میں ایک بات پہلے ذہن نشین کر لینی چاہیے۔کہ پہلے فرمایا تھا اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ اور یہاں فرمایا ہے وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَاِن الفاظ نے میری توجہ کو اس بات کی طرف پھیرا کہ یہاں درحقیقت ایک وسیع مضمون کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔وہ مضمون یہ ہے کہ دنیا میں دو زمانے آیا کرتے ہیں ایک زمانہ وہ ہوتا ہے جب افراد کے سامنے ہدایت موجود ہوتی ہے یہ اور بات ہے کہ وہ اس ہدایت کی طرف توجہ کریں یا نہ کریں۔لیکن دوسرا زمانہ وہ ہوتا ہے جب ہدایت کلّی طور پر دنیا سے مٹ جاتی ہے اور بحیثیت قوم دین پر زوال آجاتا ہے ایسے وقت میں افراد کے دل میں صحیح طریق کی طرف رغبت پیداہی نہیں ہوسکتی۔آخر کسی چیز کی طرف رغبت اچھے نمونہ کو دیکھ کر ہوتی ہے۔انسان کہتا ہے فلاں میں یہ خوبی پائی جاتی ہے مجھے بھی کوشش کرنی چاہیے کہ میرے اندر یہ خوبی پیدا ہو۔فلاں بڑا نمازی ہے میں بھی نمازی بنوں یا فلاں بڑا روزہ دار ہے میں بھی روزے رکھا کروں غرض نیکیوں کی طرف رغبت اُس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک نمونہ سامنے موجود نہ ہو۔اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ (التوبۃ:۱۱۹) اگر تم نیکیوں میں ترقی کرنا چاہتے ہو تو صادقین کی صحبت میں رہا کرو۔لیکن جب نمونہ کوئی نہ رہے اور بحیثیت قوم