تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 360
زوالِ دین ہو جائے تو لوگ نیکیوںکی طرف کس طرح توجہ کر سکتے ہیں ایسے زمانہ میں جب تک پہلے اللہ تعالیٰ کی مشیّت ظاہر نہ ہو۔وہ اپنی طرف سے کسی کو لوگوں کی اصلاح کے لئے کھڑا نہ کرے اور آسمان سے ہدایت نازل نہ ہو اس وقت تک لوگوں کے قلوب میں نیکی کی رغبت اور اس پر عمل کرنے کا احساس پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔گویا ایک وقت تو وہ ہوتا ہے جب بندے کے اختیار میں ہوتا ہے کہ وہ دین کی طرف رغبت کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ اس کا اپنا قصور ہوتا ہے ورنہ خدا نے اس کی ہدایت کا سامان پیدا کیا ہوا ہوتا ہے لیکن دوسرا وقت وہ ہوتا ہے کہ اگر خدا ہدایت کا سامان کرے تو لوگ ہدایت پا سکتے ہیں ورنہ صراط مستقیم کا پانا تو الگ رہا اُس کی سچی خواہش بھی لوگ اپنے دل میں پیدا نہیں کر سکتے۔مامور کے آنے کی ضرورت پس ایسے زمانہ کا واحد علاج مامور کی بعثت ہوتی ہے۔جب تک کسی مامور کی بعثت نہ ہو لوگ ہدایت کی راہوں کو اختیار نہیں کر سکتے یہ زمانہ جس کی ان آیات میں خبر دی جا رہی تھی چونکہ ایک مامور کا زمانہ تھا اور جس وقت یہ خبر دی جا رہی تھی وہ بھی ایک مامور کا زمانہ تھا۔گویا اس سورۃ کے شروع میں جن لوگوں کی خبر دی گئی تھی وہ بھی ایسے تھے جن میں ایک مامور نے آنا تھا اور جن کی خبر آخری آیات میں ہے وہ بھی وہ تھے جن میں ایک مامور آیا ہوا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ اے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرنے والو! تم جو کہتے ہوکہ ہمیں محمد صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی ضرورت نہیں۔یا اے لوگو! جنہیں ایک مامور کی بعثت کی خبر افقِ مبین میں دی گئی ہے۔تم کہتے ہو کہ ہمیں مامور کی ضرورت نہیں ہم خود اللہ تعالیٰ کے قرب کے راستوں کو اختیار کر لیں گے۔تمہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اس زمانہ میں ہدایت بالکل مٹ چکی ہے اس لئے تمہارا حال اب اُن لوگوں کی طرح نہیں ہے جو نبی کے زمانہ میں ہوتے ہیں جن کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ جب چاہیں ہدایت پر چلنا شروع کر دیں۔تم کہتے ہو کہ ہم اپنے زور سے ترقی حاصل کر لیں گے ہمیں کسی مامور کی اتباع کی ضرورت نہیں۔مگر یاد رکھو تمہارا یہ خیال بالکل غلط ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ آجائے تو پھر دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں ہو سکتی جو اس پر ایمان لانے کے بغیر ترقی کر سکے۔اگر کوئی فرد یا کوئی قوم ایسی امید اپنے دل میں رکھے تو یہ محض اس کی جہالت ہو گی۔جب دلوں میں سے کلّی طور پر ایمان مٹ جاتا ہے تو پھر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نازل نہ ہو وہ نہ صرف ہدایت سے ہی محروم نہیں ہوتی بلکہ ہدایت کے متعلق رغبت ابھی اس کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتی۔اس لئے یاد رکھو یہ بالکل ناممکن ہے کہ تم محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بغیر ترقی کر سکو۔اس زمانہ میں بھی ہم دیکھتے ہیں بڑے بڑے مولوی مسلمانوں میں موجود ہیں اور وہ