تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 358 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 358

چارہ نہیں کہ تم محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف ہو جائو اور ان کی بیعت میں شامل ہو جائو۔اگر تم محمد رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل جائو گے تو جنت میں جائو گے اور اگر انکار کر و گے تو جہنم میں داخل کئے جائو گے۔اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَ۔باقی تمہارا یہ جو سوال ہے کہ اگلے زمانہ سے تعلق رکھنے والی خبریں ابھی سے کیوں دی جا رہی ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کے مخاطب صرف مکّہ والے نہیں بلکہ وہ بھی ہیں جو تیرہ سو سال کے بعد آئیں گے اور وہ بھی ہیں جو قیامت تک آئیں گے۔تم تو مکہ کے کنوئیں کے مینڈک ہو تم یہ بات کہاں سمجھ سکتے ہو کہ قرآن صرف مکہ کے لئے نہیں۔صرف عرب کے لئے نہیں بلکہ وہ ساری دنیا اور قیامت تک آنے والے سب زمانوں کے لئے ہے اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ باتیں بھی بیان کرنی پڑتی ہیں جو اگلے زمانوں سے تعلق رکھتی ہیں۔تم ان باتوں پر ہنستے ہومگرا س کی وجہ یہی ہے کہ تمہاری نظر وسیع نہیں۔تم اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ قرآن کو ہم نے تمام دنیا کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے۔اس لئے ضروری ہے کہ اس میں آئندہ زمانوں میں رُونما ہونے والے واقعات کے متعلق بھی خبریں موجود ہوں۔لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَؕ۰۰۲۹ (خصوصًا ) تم میں سے اس کے لئے جو سیدھے راستہ پر چلنا چاہے۔تفسیر۔قرآن مجید ہر فطرت کے لئے فرماتا ہے اس قرآن کی صرف یہی خوبی نہیں کہ یہ تمام زمانوں کی ہدایت کے لئے نازل کیا گیا ہے بلکہ اس کی ایک اَور خوبی یہ ہے کہ اس کے احکام میں ہر فطرت کا لحاظ رکھا گیا ہے اور ہر قسم کی فطرت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس شریعت کو نازل کیا ہے جس فطرت کا آدمی بھی اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ اختیار کرنا چاہے وہ آسانی سے اختیار کر سکتا ہے اور اُسے جس قدرسامانوں کی ضرورت محسوس ہو وہ سب سامان قرآن میں موجود ہیں جس طرح تم میں سے ہر امیر اور غریب۔عورت اور مرد۔بچہ اور جوان۔مالک اور مزدور۔حاکم اور ماتحت کے متعلق قرآن کریم میں احکام موجود ہیں اور زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے متعلق مکمل ہدایات اس میں نہ ہوں۔اسی طرح کوئی فطرت ایسی نہیں جس کے لئے قرآنی احکام پر عمل کرنا بوجھ محسوس ہو ہر نوع کااس میں لحاظ رکھا گیا ہے ہر فطرت کا اس میں لحاظ رکھا گیا ہےاور پھر ہر زمانہ کا اس میں لحاظ رکھا گیا ہے۔پس ہماری طرف سے یہ کھلا اعلان ہے کہ بنی نوع انسان میں سے جو چاہے فائدہ اُٹھا لے۔لفظ مِنْکُمْ میں صرف مکہ والوں سے خطاب