تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 316 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 316

يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا (الانشقاق:۹) سے ظاہر ہے ایک دو سرسری باتیں پوچھ کر اُسے چھوڑ دیا جائے گا۔لیکن جب کافر سے حساب لیا جائے گا تو بڑی سختی سے لیا جائے گا۔احادیث میںبھی آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ نُّوْقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ (بخاری کتاب الرقاق باب مَن نوقش الحساب عُذِّبَ) یعنی جس سے سختی سے حساب لیا گیا وہ ضرور عذاب میں مبتلا ہو گا۔درحقیقت مجرم سے جب کوئی سوال کیا جاتا ہے اور اس میں سختی سے کام لیا جاتا ہے تو اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ حساب لے کر اُسے سزا دی جائے لیکن مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات سے حصہ دینا ہے اس لئے اُس کے اچھے اچھے اعمال نکال کر اُس کے سامنے رکھے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ بتائو۔کیا تم نے یہ کام کئے تھے اور جب وہ اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کردے گا۔گویا کافر کے حساب کی غرض اُسے ذلیل کرنا ہے لیکن مومن کے حساب کی غرض یہ ہو گی کہ اس کے اچھے اچھے کام لوگوں پر ظاہر کئے جائیں اور انہیں پتہ لگے کہ اُس نے کیسے کیسے نیک اعمال کئے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے اُس دن موئودہ کے بارہ میں مجرموں سے سختی سے سوال کیا جائے گا اور اُن سے پوچھا جائے گا کہ بتائو تم نے جو ان کو زندہ درگور کیا تھا تو اُن کا کیا قصور تھا؟ یہاں مفسّرین نے ایک بحث کی ہے جو گو ایک ضمنی مضمون کے طور پر نکلتی ہے لیکن وہ ایک نہایت ہی اہم مضمون ہے۔اگرچہ جہاں تک عقائد کا سوال ہے وہ مضمون غیر اہم ہے اور اس لحاظ سے بھی اس کا چندہ فائدہ نہیں کہ اگلے جہان کے متعلق اُس میں بحث کی گئی ہے جس کا اس جہان میں کوئی زیادہ فائدہ نہیں ہو سکتا۔لیکن بہرحال چونکہ وہ ایک علمی مضمون ہے اس لئے میں اُس مضمون کو اس جگہ بیان کر دینا چاہتا ہوں۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سے زمخشری کا یہ خیال کہ مشرکین کے بچے نجات پا جائیں گے مفسّرین لکھتے ہیں وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ سے زمخشری نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مشرکوں کے بچے نجات پا جائیں گے۔انہوں نے یہ استدلال اس رنگ میں کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں اس آیت میں یہ ذکر آتا ہے کہ مَوْءٗ دَۃُ سے یا مَوْءٗ دَۃُ کے بارے میں (ان دونوں میں سے کوئی سمجھ لو) یہ سوال کیا جائے گا بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ کہ وہ کس گناہ کے بدلہ میں ماری گئی ہے (تفسیر کشاف زیر آیت ھذا)۔وہ کہتے ہیں اس آیت سے یہ پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے صَاحِبَۃُ الذَّنْب قرار نہیں دیا اگر وہ صَاحِبَۃُ الذَّنْب ہوتی تو اس کے متعلق یہ نہ کہا جاتا کہ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ اسی بحث میں دوسرے مفسّرین بھی پڑ گئے ہیںکہ زمخشری نے اس آیت سے جو نتیجہ نکالا ہے وہ صحیح ہے یا نہیں یا یہ مسئلہ اپنی ذات میں غلط ہے یا درست۔جہاں تک اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ مجرموں کے بچے بَری ہیں اور وہ جنت میں جائیں گے