تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 317 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 317

اس میں زمخشری نے حضرت ابن عباسؓ کی اتباع کی ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ بعض لوگ کہتے ہیں مشرکین کے بچے جہنمی ہوں گے۔آپ نے فرمایا وہ جھوٹ بولتے ہیں قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ پس جو شخص یہ کہتا ہے کہ کفار کے بچے جہنم میں جائیں گے وہ جھوٹ بولتا ہے (مگر صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ یہ اثر ضعیف ہے) اس میں حضر ت ابن عباس نے بھی اسی آیت سے استدلال کیا ہے مگر حضرت ابن عباسؓ نے وجہ استدلال نہیں بتائی صرف آیت بتا دی ہے لیکن زمخشری نے وجہِ استدلال بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ کو قرار دیا ہے۔اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ کفار کے بچوں کو بری قرار دیا گیا ہے۔زمخشری کے استدلال کی تردید مگر جہاں تک زمخشری کا استدلال اس آیت سے ہے وہ بالکل غلط ہے بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ سے یہ نتیجہ ہر گز نہیں نکل سکتا کہ کفّار کے بچے جنت میں جائیں گے۔اس لئے کہ کسی خاص شخص کا اگر کسی خاص پہلو میں مجرم ہونا ثابت نہ ہو تو یہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہوتا کہ وہ کسی لحاظ سے بھی مجرم نہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور لحاظ سے مجرم اور گنہگار ہو۔بے شک جہاں تک بچے کا سوال ہے اور جہاں تک صرف اس جرم کا تعلق ہے یہ استدلال درست ہے لیکن عام طور پر نہیں کیوں کہ ایک جرم کےنہ ہونے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ دوسرا کوئی جُرم بھی نہیں ہے۔پس میں زمخشری کے اس نتیجہ سے اختلاف کرتے ہوئے اس سلسلۂ مضامین کی بعض اور کڑیاں بیان کرتا ہوں۔آخر میں مَیں اس بارہ میں اپنے نقطۂ نگاہ کی بھی وضاحت کر دوں گا۔زمخشری کے علاوہ حضرت ابن عباسؓ کا بھی ایک قول پیش کیا جاتا ہے مگر چونکہ انہوں نے وجہ استدلال بیان نہیں کی اس لئے ہمیں دوسری نگاہ سے اس مسئلہ پر غور کرنا چاہیے زمخشری نے کہا ہے کہ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے۔مگر جیسا کہ میںبتا چکا ہوں اس آیت سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا۔کیوں کہ کسی ایک جرم میں کسی کا مجرم نہ ہونا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہ کسی لحاظ سے بھی مجرم نہیں ہے۔ہو سکتاہے کہ وہ بعض اور وجوہ سے مجرم ہو۔لیکن ایک بات ضرور ہے جو زمخشری کے حق میں ہے اور وہ یہ کہ یہ سوال ایک بچہ کے متعلق ہے اور جب بچہ کے متعلق سوال ہے تو چونکہ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ ایک نابالغ بچہ کے متعلق ہے اور وہ شریعت کا مکلّف نہیں اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر اُس نے یہ گناہ نہیں کیا تو کوئی اور گناہ کیا ہو گا۔گو عام طور پر اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ جب اُس نے کوئی ایسا جرم نہیں کیا جو اُسے اس سزا کا مستحق بناتا تو معلوم ہوا وہ بالکل بری ہے درست نہیں۔لیکن بہرحال جب یہ سوال ایسے بچہ کے متعلق ہو گا جو بالغ نہیں تو بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْ میں مَوءٗدَۃُ کے گناہ کا ذکر نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اُسے مارنے والے کے گناہ کا اس میں ذکر سمجھا جائے گا کہ تو نے یہ فعل کس بناء پر کیا تھا۔