تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 315
تفسیر۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْکے معنے پہلے مفسرین کے نزدیک اور ان کے معنی کی تغلیط وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ کے معنے یہ ہیں کہ زمین میں زندہ دفن کی جانے والی لڑکی کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔لیکن مفسّرین اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ مَوْئٗ دَةُ سے سوال کیا جائے گا۔لیکن میرے نزدیک یہ معنے قرآن کریم کے محاورہ کے لحاظ سے درست نہیں ہیں۔مفسّرین نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ موئودہ سے پوچھنے میں زجر زیادہ ہے کیونکہ اُس سے گواہی طلب کی جا رہی ہو گی(الکشاف زیر آیت ھذا) لیکن میںسمجھتا ہوں یہ معنے قرآن کریم کے اسلوبِ بیان اور متعارف طریقِ عمل کے خلاف ہیں۔قرآن کریم سے صاف پتہ لگتا ہے کہ سوال مجرم سے ہی کیا جاتا ہے نہ کہ اُس سے جس پر ظلم کیا گیا ہو چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ (الانبیاء:۲۴) یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اُس کے متعلق اُس سے نہ پوچھا جائے گا ہاں یہ لوگ جو کچھ عمل کرتے ہیں اُس کے متعلق اُن سے سوال کیا جائے گا۔اسی طرح پھر فرماتا ہے لِیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِھِمْ (الاحزاب:۹)یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والوں سے ان کی سچائی کا سوال کرے سورۂ عنکبوت میں فرماتا ہے وَلَیُسْئَلُنَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَمَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ (العنکبوت:۱۴)اور ضرور اِن لوگوں سے قیامت کے دن اس کا سوال کیا جائے گا جو یہ افتراء کرتے تھے۔پھر فرماتا ہےوَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا١ؕ اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ١ؕ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ(الزخرف:۲۰)یعنی اِن لوگوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے بندے ہیں لڑکی بنا دیا۔کیا انہوں نے اُن کی پیدائش کو دیکھا ہے۔عنقریب ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور اُن سے اس کا سوال کیا جائے گا۔اِن آیات سے ہم کو پتہ لگتا ہے کہ جہاں جہاں سوال کا ذکر آتا ہے وہاں مجرم سے ہی پوچھے جانے کا ذکر آتا ہے نہ کہ غیر مجرم سے۔البتہ ایک مقام ایسا ہے جہاں یہ شبہ ہو سکتا ہے کہ وہاں ایک غیر مجرم سے سوال کیا گیا ہے اور وہ مقام وہ ہے جہاں حضرت میسح ناصری ؑ سے سوال کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِيْ وَ اُمِّيَ اِلٰهَيْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا يَكُوْنُ لِيْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَيْسَ لِيْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِيْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِيْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ ( المائدۃ:۱۱۷)یعنی جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم کیاتم نے لوگوں سے کہا تھا کہ اللہ کو چھوڑ کر مجھے اور میری ماں کو خدا بنا لو؟ عیسیٰ کہیں گے کہ میں تیری پاکی بیان کرتا ہوں اور تُو پاک ہے۔مجھے یہ ہر گز سزاوار نہیں کہ مَیں وہ بات کہوں جس کا مجھے حق نہیں۔اگر میں نے یہ کہا ہو گا تو بے شک تُو اسے جانتا ہو گا کیوں کہ تُو جانتا ہے جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ تیرے علم میں ہے اس لئے کہ بے شک چھپی ہوئی باتوں کا جاننے والا تُو ہی ہے۔لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ نصاریٰ کہتے تھے کہ حضرت مسیح ؑ نے ہم کو یہ تعلیم دی ہے اس لئے نصاریٰ کو جھوٹا کرنے کے لئے حضرت مسیح ؑ سے اس سوال کا پوچھا جانا ضروری تھا۔لیکن یہاں یہ بات کس طرح چسپاں ہو سکتی ہے کہ موئودہ کہتی تھی کہ مجھے بے شک زمین میں دفن کر دو۔اگر کفار کا دعویٰ ہوتا کہ موئودہ نے ہمیں کہا ہے کہ مجھے زندہ گاڑ دیا جائے تو اس صورت میں بے شک اس سے سوال ہو سکتا تھا اور گاڑنے والا کہہ سکتا تھاکہ آپ مجھ سے کیوں پوچھتے ہیں خود اُس سے پوچھ کر دیکھ لیجئے اس نے خود کہا تھا کہ مجھے زندہ گاڑ دیا جائے۔لیکن جب موئودہ کی نسبت ایسی کوئی بات نہیں کہی جاتی تو موئودہ سے سوال کرنے کے بھی کوئی معنے نہیں ہو سکتے۔میرے نزدیک اس جگہ حذف ہےاور وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ درحقیقت وَاِذَا الْمَوْئٗ دَۃُ سُئِلَتْ عَنْھَا ہے یعنی جب کہ موئودہ کے بارہ میں سوال کیا جائے گا اور چونکہ موئودہ کسی حق سے نہیں گاڑی جاتی اس لئے جب اس کے بارہ میں مجرم سے سوال کیا جائے گا تو مجرم پھنس جائے گا۔یوں تو مومن سے بھی حساب لیا جائے گا اور کافر سے بھی حساب لیا جائے گا مگر مومن اور کافر کے حساب میں فرق یہ ہے کہ مومن سے آسان حساب لیا جائے گا جیسا کہ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيْرًا (الانشقاق:۹) سے ظاہر ہے ایک دو سرسری باتیں پوچھ کر اُسے چھوڑ دیا جائے گا۔لیکن جب کافر سے حساب لیا جائے گا تو بڑی سختی سے لیا جائے گا۔احادیث میںبھی آتا ہے کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ نُّوْقِشَ الْحِسَابَ عُذِّبَ (بخاری کتاب الرقاق باب مَن نوقش الحساب عُذِّبَ) یعنی جس سے سختی سے حساب لیا گیا وہ ضرور عذاب میں مبتلا ہو گا۔درحقیقت مجرم سے جب کوئی سوال کیا جاتا ہے اور اس میں سختی سے کام لیا جاتا ہے تو اس سے غرض یہ ہوتی ہے کہ حساب لے کر اُسے سزا دی جائے لیکن مومن کو چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات سے حصہ دینا ہے اس لئے اُس کے اچھے اچھے اعمال نکال کر اُس کے سامنے رکھے جائیں گے اور پوچھا جائے گا کہ بتائو۔کیا تم نے یہ کام کئے تھے اور جب وہ اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ اُسے جنت میں داخل کردے گا۔گویا کافر کے حساب کی غرض اُسے ذلیل کرنا ہے لیکن مومن کے حساب کی غرض یہ ہو گی کہ اس کے اچھے اچھے کام لوگوں پر ظاہر کئے جائیں اور انہیں پتہ لگے کہ اُس نے کیسے کیسے نیک اعمال کئے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے اُس دن موئودہ کے بارہ میں مجرموں سے سختی سے سوال کیا جائے گا اور اُن سے پوچھا جائے گا کہ بتائو تم نے جو ان کو زندہ درگور کیا تھا تو اُن کا کیا قصور تھا؟