تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 314
زُوِّجَتْ پھر آپ نے فرمایا تَزَوَّجُھَا اَنْ تُؤَلِّفَ کُلُّ شِیْعَۃٍ اِلٰی شِیْعَتِھِمْ (رواہ بن ابی حاتم عن نعمان بن بشیر بحوالہ ابن کثیر) یعنی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایک خیال یا پیشہ کے لوگ آپس میں سوسائٹیاں بنا لیں گے۔سو جیسا کہ موجودہ زمانہ کے حالات سے ظاہر ہے یہ پیشگوئی بڑی وضاحت سے پوری ہو چکی ہے۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۪ۙ۰۰۹ اور جب زندہ گاڑی جانے والی (لڑکی) کے بارے میں سوال کیا جائے گا بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ۰۰۱۰ (کہ آخر) کس گناہ کے بدلہ میں اُس کو قتل کیا گیا (تھا)۔حل لغات۔مَوْءٗ دَۃٌ مَوْءٗ دَۃٌ وَاَدَ سے نکلا ہے اور وَاَدَبِنْتَہٗ (یَئِدُھَا) وَاْدًا کے معنے ہوتے ہیں دَفَنَھَا فِی الْقَبْرِ وَھِیَ حَیَّۃٌ اُس نے اپنی لڑکی کو زندہ ہی قبر میں دفن کر دیا۔وَعِبَارَۃُ الْاَسَاسِ اَثْقَلَھَا بِالتُّرَابِ (اقرب) اور زمخشری اپنی کتاب اساس میںلکھتے ہیں کہ اِس کےمعنے اَثْقَلَھَا باالتُّرَابِ کے ہوتے ہیں یعنی اُس پر مٹی کا بوجھ ڈال دیا۔پھر لکھا ہے فَھِیَ وَئِیْدَۃٌ وَمَوْءٗ دَۃٌ یعنی مَوْءٗ دَۃٌ کو وَئِیْدٌ اور وَئِیْدَۃٌ بھی کہتے ہیں (اقرب) تفسیر۔وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْکے معنے پہلے مفسرین کے نزدیک اور ان کے معنی کی تغلیط وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ کے معنے یہ ہیں کہ زمین میں زندہ دفن کی جانے والی لڑکی کے بارہ میں سوال کیا جائے گا۔لیکن مفسّرین اس کے یہ معنے کرتے ہیں کہ مَوْئٗ دَةُ سے سوال کیا جائے گا۔لیکن میرے نزدیک یہ معنے قرآن کریم کے محاورہ کے لحاظ سے درست نہیں ہیں۔مفسّرین نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ موئودہ سے پوچھنے میں زجر زیادہ ہے کیونکہ اُس سے گواہی طلب کی جا رہی ہو گی(الکشاف زیر آیت ھذا) لیکن میںسمجھتا ہوں یہ معنے قرآن کریم کے اسلوبِ بیان اور متعارف طریقِ عمل کے خلاف ہیں۔قرآن کریم سے صاف پتہ لگتا ہے کہ سوال مجرم سے ہی کیا جاتا ہے نہ کہ اُس سے جس پر ظلم کیا گیا ہو چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَایُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلُوْنَ (الانبیاء:۲۴) یعنی جو کچھ اللہ تعالیٰ کرتا ہے اُس کے متعلق اُس سے نہ پوچھا جائے گا ہاں یہ لوگ جو کچھ عمل کرتے ہیں اُس کے متعلق اُن سے سوال کیا جائے گا۔اسی طرح پھر فرماتا ہے لِیَسْئَلَ الصّٰدِقِیْنَ عَنْ صِدْقِھِمْ (الاحزاب:۹)یعنی تاکہ اللہ تعالیٰ سچ بولنے والوں سے ان کی سچائی کا سوال کرے سورۂ عنکبوت میں فرماتا ہے