تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 306
گوشت تھا اب اس کو دنبے کا گوشت بھی میسر آرہا ہے۔سبزیاں اور ترکاریاں بھی مل رہی ہیں اور اُسے اونٹ کا دودھ یا اُس کا گوشت کھانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔اونٹ کا دودھ آخر ضرورت کے ماتحت ہی پیا جاتا تھا یہ تو نہیں کہ وہ کوئی مزیدار شے ہے مَیں نے خود اسے پی کر دیکھا ہے ایسا بدمزہ ہوتا ہے کہ اس کے پینے سے قے آتی ہے جس شخص کو کھانے کے لئے اَور کچھ نہ ملے وہ بے شک یہ دُودھ پی سکتا ہے مگر جسے اور چیزیں کھانے کے لئے مل جائیں وہ اُونٹنی کا دُودھ کیوں پئے گا۔اسی طرح اونٹ کا گوشت بھی بڑا سخت ہوتا ہے اور گو عرب لوگ اُسے کھایا کرتے تھے مگر جب اُنہیں دُنبے کا گوشت کھانے کو مل جائے تو وہ اُونٹ کا گوشت کیوں کھائیں۔اور جب سبزی ترکاری انہیں میسر آجائے تو وہ اونٹنی کے دودھ کی طرف کیوں رغبت کریں۔یہی بات اس آیت میں بیان کی گئی تھی کہ نقل وحرکت کے سامان اس قدر کثرت سے نکل آئیں گے اور اتنی تیز رفتار سواریاں ایجاد ہو جائیں گی کہ ہر چیز عرب میں پہنچنے لگ جائے گی اس وجہ سے نہ اونٹ کی سواری کی کوئی اہمیت رہے گی اور نہ اونٹنی کے دُودھ اور اس کے بچہ کے گوشت کی قدر رہے گی۔ہم دیکھتے ہیں عرب میں پان بھی پہنچ گیا ہے حالانکہ عرب کا پان سے کوئی تعلق نہیں لیکن جہازوں میں لد کر اب پان بھی عرب میں پہنچنے لگ گیا ہے اور ہندوستانی تو الگ رہے بعض عرب بھی شوق کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔اسی طرح اور کئی قسم کا سامان خوردونوش جو پہلے عرب کے واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا اب وہاں آسانی سے پہنچ رہا ہے اور اس طرح اونٹ کے دودھ اور اس کے گوشت کی ضرورت بہت کم ہو گئی ہے اور روز بروز کم ہوتی جائے گی یہاں تک کہ اونٹ کی ضروت وہاں اسی طرح رہ جائے گی جس طرح دوسرے ملکوںمیں ہے اور پہلی سی بات اب بھی نہیں رہی آئندہ اور بھی تبدیل ہو جائے گی۔وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ۰۰۶ اور جب وحشی اکٹھے کئے جائیں گے۔حَلّ لُغَات۔اَلْوُحُوْشُ اَلْوُحُوْشُ حَیَوَانُ الْبَرِّ اَوْ مَا لَا بسْتَأنِسُ مِنْ دَوَابِّ الْبَرِّ جنگلی جانور یا وہ چوپایہ جو انسانوں سے مانوس نہ ہو وَحْشِیٌّ کہلاتا ہے اور وُحُوْشُ اس کی جمع ہے (اقرب) حُشِرَتْ حُشِرَتْ حَشَرَ سے مؤنث مجہول کا صیغہ ہے اور حَشَرَ النَّاسَ (حَشْرًا) کے معنے ہوتے ہیں جَمَعَھُمْ لوگوں کو جمع کیا۔اور حَشَرَالسِّنَانَ کے معنے ہوتے ہیں دَقَّقَہٗ وَلَطَّفَہٗ اُس نے نیزے کی نوک کو خوب