تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 305

ہم اُس کا دُودھ خُوب پئیں گے۔پھر وہ گوشت کھایا کرتے تھے اس لحاظ سے دس ماہ کی گابھن اونٹنی بہت اعلیٰ خیال کی جاتی تھی کیونکہ چھوٹے بچے کا گوشت بہت اچھا ہوتا ہے۔پشاور کی تجارت کا ایک بڑا حصہ دُنبہ کے بچہ کے گوشت سے وابستہ ہے وہ دو ماہ کا دُنبہ ذبح کر کے اس کا گوشت بیچتے ہیں اور لوگ دُور دُور سے اس دنبہ کا گوشت چکھنے کو پشاور جاتے ہیں۔بکری کے چھوٹے بچے کا گوشت بھی بہت مزیدار ہوتا ہے۔غرض وہ ایسی اونٹنی کو بہت قیمتی سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ ہم اونٹنی کا دودھ پئیں گے اور بچے کا گوشت کھائیں گے۔لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ایک زمانہ آنے والا ہے جب ایسی اونٹنیاں بیکار چھوڑ دی جائیں گی جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے لُغت کے لحاظ سے عَطَّلَ کے معنے یہ ہوئے کہ کسی چیز کو ضائع ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اور اس سے کسی قسم کا واسطہ نہ رکھا جائے۔اس لحاظ سے عُطِّلَتْ کے دو ہی معنے ہو سکتے ہیںکہ (۱)اونٹ کو بیکار کرنے والی سواریاں نکل آئیں گی جس سے ایسی اونٹنیوں کی قیمت بھی کہ دس ماہ سے گابھن ہوں اور جلد بچہ دینے والی ہوں گر جائے گی اور لوگ اُن کو چھوڑ دیں گے (۲)یا یہ کہ اس قدر تیز سواریاں نکل آئیں گی کہ اُن کی وجہ سے ہر قسم کی غذائیں عرب میں پہنچنے لگیں گی اور اونٹ کے دودھ کی چنداں ضرورت نہ رہے گی جس کی وجہ سے جنی ہوئی اور جننے کے قریب پہنچی ہوئی اونٹنی کی قدر پہلے جیسی نہ رہے گی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں اس زمانہ میں یہ دونوں باتیں پوری ہو چکی ہیں۔سواری کے لئے دخانی جہاز۔ریل۔موٹر اور ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں اور ان نئی ایجادات کی وجہ سے عرب میںجہاں اونٹوں پر سفر کیا جاتا تھا وہاں اب موٹروں پر سفر کیا جاتا ہے۔جب شروع شروع میں عرب میں موٹریں جاری کی گئیں تو بدئووں نے بغاوت کر دی کہ اس طرح ہماری تجارت کو نقصان ہو گا مگر آخر موٹریں ہی جاری رہیں اور اونٹ کی سواری متروک ہو گئی چنانچہ اب مکّہ میں جانے والے موٹروں پر سفر کر کے ہی جاتے ہیں۔مولوی ثناء اللہ صاحب نے ایک دفعہ اعتراض کیا تھا کہ مکّہ میں تواب تک ریل نہیں گئی حالانکہ ریل کیا اور موٹر کیا مطلب تو یہ تھا کہ اونٹ کی سواری جاتی رہے گی اور اس کی بجائے ایسی نئی سواریاں نکل آئیں گی جن کو لوگ زیادہ ترجیح دیں گے چنانچہ موٹروں نے اونٹ کی سواری کی اہمیت بالکل گرا دی ہے۔ریل تو مقررہ وقت پر چلتی ہے مگر موٹریں ہر وقت چل سکتی ہیں اس لئے جہاں موٹر چلتی ہے وہاں دوسری سواریاں بالکل رہ جاتی ہیںکیوں کہ وہ ہر وقت چل سکتی ہے غرض اس پیشگوئی کو اللہ تعالیٰ نے اس رنگ میںپورا کر دیا کہ اب جدّہ سے مکّہ اور مکّہ سے مدینہ کی طرف موٹر چلتی ہے اُونٹ کی کوئی حیثیت ہی نہیں رہی۔اس پیشگوئی کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ ایسے تیز رفتار جہاز پیدا ہو جائیں گے کہ جن کی وجہ سے ہر قسم کی سبزی ترکاری عرب میں پہنچنے لگ جائے گی چنانچہ پیشگوئی کا یہ حصہ بھی پورا ہوا۔وہ قوم جس کی غذا ہی اونٹ کا دُودھ اور اُس کا