تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 307
تیز کیا اور حَشَرَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں جَلَاہُ عَنْ وَطَنِہٖ اس کو اپنے وطن سے نکال دیا۔اور حَشَرَ الْجَمْعَ کے معنے ہوتے ہیں اَخْرَجَہٗ مِنْ مَّکَانٍ اِلٰی اٰخَرَ۔لوگوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل کر دیا اور حُشِرَ مجہول کے صیغہ میں اس کے ایک زائد معنی بھی ہوتے ہیں چنانچہ کہتے ہیں حُشِرَتِ الْوُحُوْشُ اور مراد یہ ہوتی ہے کہ مَاتَتْ وَاُھْلِکَتْ یعنی وحشی مر گئے یا ان کو مار دیا گیا۔(اقرب) پس وَاِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ کے ایک معنے یہ ہوں گے کہ وحشیوں کو ہلا ک کر دیا جائے گا۔تفسیر۔یہ بھی ایک زبردست پیشگوئی ہے جو موجودہ زمانہ میں پوری ہوئی۔اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ ایک زمانہ میں وحشی جانور جمع کئے جائیں گے۔چنانچہ دیکھ لو آجکل چڑیا گھروں میں جس قدر وحشی جانور اکٹھے کئے گئے ہیں اس کی مثال پہلے زمانوںمیں کہاں ملتی ہے کوئی صوبہ اور کوئی ملک ایسا نہیں جہاں کوئی چڑیا گھر نہ ہو اور اس میں وحشی جانوروں کو اکٹھا نہ کیا گیا ہو پہلے زمانہ میں شائد ساری دنیا میں بھی کوئی ایک مقام ایسا نہیں مل سکتا تھاجہاں اس طرح جانور اکٹھے کئے گئے ہوں مگر اب کوئی ملک ایسا نہیں جس میں چڑیا گھر نہ ہوں۔بلکہ کوئی صوبہ ایسا نہیں جس میں چڑیا گھر نہ ہو۔اور پھر اس بارہ میں ملکوں اور صوبوں کی آپس میں رقابت پائی جاتی ہے اور ہر ملک یہ چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ وحشی جانور اکٹھا کرے یہ تو چڑیا خانوں کا حال ہے جہاں زندہ وحشی جانور اکٹھے ہوتے ہیں عجائب گھروں میں مُردہ جانوروں کی کھالوں میں بھوسہ بھر بھر کر ان کو رکھا جاتا ہے تاکہ لوگ آئیں اُن کو دیکھیں اور اپنے معلومات میں اضافہ کریں۔اسی طرح علم حیات کی تحقیقات کے لئے سائنٹفک ریسر چ انسٹیٹیوشن RESEARCH INSTITUTION میں مردہ جانوروں کے لاشے اور اُن کے ڈھانچے لا لا کر جمع کئے جاتے ہیں اور دیکھا جاتا ہے کہ یہ ڈھانچے کتنے سال کے ہیںیا کتنا زمانہ ان پر گزر چکا ہے یا اُن کی مختلف حالتوں کو دیکھنے اور دوسروں کو یاد کرانے کے لئے اُن ڈھانچوں پر غور کیا جاتا ہے غرض کیا چڑیا گھروں کے لحاظ سے اور کیا عجائب گھروں کے لحاظ سے اور کیا علم حیات کی تحقیق کے لحاظ سے اس پیشگوئی کی صداقت پوری طرح ثابت ہے اور جس طرح موجودہ زمانہ میں وحشی جانوروں کو زندہ یا مردہ اکٹھا کیا گیا ہے اس کی مثال پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔(۲) یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وُحُوْشُ سے مجازًا وحشی انسان مراد لئے جائیں۔عربی زبان میں کثرت سے یہ لفظ اِن معنوں میں استعمال ہوتا ہے(المنجد)۔اُردو زبان میں بھی کہتے ہیں فلاں آدمی تو وحشی ہے اُس سے باتیں نہ کیجئے۔یا فلاں لوگ تو وُحُوش ہیں۔اسی لحاظ سے وَاِذَاالْوُحُوْشُ حُشِرَتْ کے یہ معنے ہوں گے کہ وحشی انسان یعنی جنگلی یا غیر تعلیم یافتہ اقوام جمع کی جائیں گی اور اُن کا تعلق بوجہ اشاعت تمدّن اور راستوں کے کھل جانے کے متمدن اقوام