تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 304
کَنُفَسَائَ وَلَا ثَالِثَ لِھٰذَیْنِ الْاِسْمَیْنِ (اقرب) عِشَار اُن اونٹنیوں کو کہتے ہیں جن کے حمل پر دس مہینے گزر جائیں یا آٹھ مہینے گزر جائیں اکثر لوگوں کے نزدیک عشار انہی اونٹنیوں کو کہتے ہیں جن کے حمل پر دس مہینے گزر جائیںمگر بعض نے کہا ہے کہ جن کے حمل پر آٹھ مہینے گذر جائیںان کو بھی عِشَار کہتے ہیں (اقرب) اس لفظ کی بناوٹ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا خیال زیادہ صحیح ہے جو عشار دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں کو کہتے ہیں۔اُن اونٹنیوں کے گلّہ کو بھی عِشَار کہتے ہیں جن میں سے بعض بچہ جَن چکی ہوں اور بعض کا بچہ قریب میں ہونے والا ہو۔(اقرب)گویا عِشَار دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں کو بھی کہتے ہیں اور اونٹنیوں کا وُہ گلّہ بھی عِشَار کہلاتا ہے جن میں سے بعض بچہ جن چکی ہوں اور بعض انتظار کر رہی ہوں۔عُطِّلَتْ عُطِّلَتْ عَطَّلَ سے مجہول مؤنث کا صیغہ ہے اور عَطَّلَ الْاِبِلَ کے معنے ہوتے ہیں خَلَّاہُ بِلَارَاعٍ یعنی بغیر گلّہ بان اور چرواہے کے اُونٹ کو چھوڑ دیا وَ کُلُّ مَاتُرِکَ ضِیَاعًا فَقَدْ عُطِّلَ۔اور ہر وہ چیز جسے یونہی ضائع ہونے کے لئے چھوڑ دیا جائے اس کے لئے عَطَّلَ کا لفظ آتا ہے (اقرب) پس وَاِذَا الْعِشَارُعُطِّلَتْ کے معنے یہ ہوئے (۱)جبکہ دس ماہ کی گھابن اُونٹنیوں کو یونہی چھوڑ دیا جائے گا یعنی خواہ وہ مریں یا جئیں اُن سے کوئی تعلق نہیں رکھا جائے گا (۲)ایسی اونٹنیوں کے گلّوں کو جن میں سے بعض بچہ دے چکی ہوں اور بعض ابھی بچہ دینے والی ہوں چھوڑ دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں۔یہ چاہے مریں یا رہیں ہمارا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔تفسیر۔اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْمیں لفظ عشار استعمال کرنے کی وجہ قرآن کریم عرب میں نازل ہوا ہے اس لئے قرآن کریم میں عرب کی ضروریات اور اہلِ عرب کے جذبات کو سب سے مقدّم رکھا گیا ہے تاکہ پہلے وہ خود قرآن کریم کو اچھی طرح سمجھ لیں اور پھر اُسے دنیا میں پھیلائیں۔جو قوم الہامِ الٰہی کی اوّلین مخاطب ہوتی ہے اس کے محاورات اور اس کے جزبات وغیرہ کو کلام میں مقدم رکھا جاتا ہے کیونکہ اگر وہ اس کلام کو سمجھے گی نہیں تو اُسے پھیلائے گی کس طرح۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ عرب میں سواری اور غذا دونوں چیزیں اونٹ سے وابسطہ تھیں اونٹ ہی پر وہ سواری کرتے تھے اور اُونٹنی کا دودھ ہی غذا کے طور پراستعمال کرتے تھے۔اسی طرح اونٹ کا گوشت کھایا کرتے تھے اور ان تینوں باتوں کے لحاظ سے دس ماہ کی گھابن اونٹنی خواہ وہ بچہ جَن چکی ہویا بچہ جَننے والی ہو ان کی نگاہ میں بہت بڑی وقعت رکھتی تھی اس لئے کہ بچہ جَننے والی نہ صرف خود سواری کے قابل ہوتی تھی بلکہ اس کے متعلق یہ امید بھی ہوتی تھی کہ اس کا جو بچہ پیدا ہو گا وہ بھی سواری کے یا غذا کے کام آئے گا۔پھر وہ اونٹنی کا دُودھ پیتے تھے اور دُودھ کے لحاظ سے بھی دس ماہ کی گھابن اونٹنی کو وہ بہت قیمتی سمجھتے تھے کیوں کہ جانتے تھے کہ یہ عنقریب بچہ دے گی اور