تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 303
کے مقابلہ میںاعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں تو بہرحال وہ ایک قابلِ تعریف بادشاہ سمجھا جائے گا اور اسی نقطۂ نگاہ سے ہمیں اس کے افعال کو دیکھنا پڑے گا۔غرض قومی روایات کے گدلا ہو جانے کی مثال موجودہ زمانہ میں اتنی واضح اور اس قدر نمایاں ہے کہ قومی طور پر اس سے پہلے کسی زمانہ میں یہ مثال نظر نہیں آتی۔اسی طرح علماء اور امراء کا زور ٹوٹ جانا بھی اتنا واضح ہے کہ پہلے کسی زمانہ میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔روس سے مذہب پر سختی سے پابند ہونے والے علماء کو نکال دیا گیا۔ٹرکی سے ان کو نکال دیا گیا۔جرمنی اور اٹلی سے انہیں نکال دیا گیا۔اسی طرح بعض اور ممالک میں اُن سے یہ سلوک کیا گیا اور مقامِ عزت سے اتار کر اُنہیں اس طرح نیچے پھینک دیا گیا جس طرح جانور کا جھول اتار کر پھینک دیا جاتا ہے۔غرض یہ علامات جو ان تین آیات میںبیان کی گئی ہیںاور وہ علامات جو اگلی آیا ت میں بیان ہیں اگر ان سب کو بیان کیا جائے تو یقیناً کسی زمانہ میں یہ باتیں اکٹھے طور پر نظر نہیں آئیں گی۔بلکہ اگر یہ سب باتیں ایک نقشہ کے طور پر شائع کر دی جائیں اور ساتھ ہی یہ انعام مقرر کر دیا جائے کہ اگر کوئی شخص اِن علامات کو گزشتہ زمانہ پر چسپاں کر کے دکھا دے تو اُسے لاکھ یا دو لاکھ روپیہ بطور انعام دیا جائے گا تب بھی کوئی شخص یہ ثابت نہیں کر سکے گا کہ پہلے کسی ایک زمانہ میں یہ علامات پوری ہو چکی ہیں دنیا کے کسی مؤرخ کے سامنے ان علامات کو رکھ دو اور پھر اس سے پوچھو کہ یہ علامات کس زمانہ پر صادق آتی ہیں تو وہ فوراً کہہ اٹھے گا کہ یہ تو اسی زمانہ کی علامات بیان کی جا رہی ہیں پہلے کسی زمانہ میں ایسے حالات پیدا نہیں ہوئے۔غرض ہر شخص کی انگلی اِن آیات کو پڑھ کر موجودہ زمانہ کی طرف ہی اٹھے گی کسی اور زمانہ کی طرف نہیں اُٹھ سکتی اور یہی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان سورتوں میں ایک یوم القیامۃ کا ایسا واضح نقشہ کھینچا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص اُس یوم القیامۃ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہے تو وہ اِن سورتوں کو پڑھ لے۔وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ۰۰۵ اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں اوارہ چھوڑ دی جائیں گی۔حَلّ لُغَات۔عِشَارُعِشَارُ عُشَرَاءُ کی جمع ہے۔عربی زبان میں مفردات میں عُشَرَاءُ کی اپنے وزن میں کوئی نظیر نہیں۔صرف نُفَسَائُ ہی ایک لفظ ہے جو اس کے ہم وزن ہے گویا عُشَرَائُ اور نُفَسَائُ دو ہی لفظ اس وزن میں پائے جاتے ہیں تیسرا کوئی لفظ ان وزنوں کے لحاظ سے عربی زبان میں نہیں ہے۔لکھا ہے اَلْعُشَرَاء