تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 302
اچھے اخلاق کا مسلمان بادشاہ کریہہ شکل میں دکھا یا جاتا ہے اور مغربی لوگوں کے ہاتھ میں تعلیم ہونے کی وجہ سے مسلمان بھی اسی خیال کے ہو گئے ہیں۔یہ تو پہلے زمانوں میں بھی نظر آئے گا کہ زید اپنے اَسْلاف کے کارناموں کو بُھول گیا یا بکر اپنے آباء کی خوبیوں سے غافل ہو گیا مگر یہ کہیں دکھائی نہیں دے گا کہ قوم کی قوم اپنی شاندار قومی روایات کو نہ صرف بُھلا دے بلکہ اپنے اَسْلاف کی خوبیاں بھی اُسے عیب نظر آنے لگ جائیں۔آج لاکھوں لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ فلاں مسلمان بادشاہ ایسا گندہ تھا اور فلاں مسلمان بادشاہ ایسا خبیث تھا حالانکہ اُن سے زیادہ گندے اور ان سے زیادہ خبیث بادشاہوں کی وہ تعریف کر رہے ہوتے ہیں۔وُہ یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ محمود غزنوی ایسا تھا مگر وہ اتنا نہیں سوچتے کہ وہ خود جن کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں وہ اُن سے زیادہ گندے اور ناپاک ہوتے ہیں۔کوئی مسلمان بادشاہ تو چوری چھپے شراب پیتا ہو گا مگر یہ جن کی تعریف کرتے ہیں وہ رات دن شرابیں پیتے تھے۔اگر شراب پینا نقص ہے تو یہ اسلامی نقطۂ نگاہ سے نقص ہے عیسائیت کے نقطہ ءنگاہ سے تو یہ ایک اچھا کام ہے پس انہیں تو چاہیے تھا کہ وہ خوش ہوتے کہ ایک مسلمان بادشاہ بھی شراب پینے پر مجبور ہوا مگر وہ اُلٹا اُس کو بُرا بھلا کہتے ہیں جس کی غرض سوائے اس کے کچھ نہیں ہوتی کہ مسلمانوں کے دلوں میں اپنے بادشاہوں کی نسبت نفرت اور حقارت کے جذبات پیدا ہوں حالانکہ انہیں اس سے کیا واسطہ ہے کہ کوئی شراب پیتا تھا یا نہیں۔اُنہیں تو نظامِ حکومت کے لحاظ سے تبصرہ کرنا چاہیے کہ اس نے حکومت سے تعلق رکھنے والے کام کس طرح سرانجام دیئے۔میں گزشتہ دنوں لاہور میں تھا کہ ایک شخص نے مجھ سے سوال کیا کہ محمود غزنوی کے فلاں فلاں افعال آیا اسلام کے مطابق تھے یا اس کی تعلیم کے خلاف تھے؟ میں نے اُس سے کہا کہ ان امور کا تعلق مذہبی نقطۂ نگا ہ کے ساتھ ہے لیکن تم جس وقت کسی مسلمان بادشاہ کو بُرا کہتے ہو تو تمہارا منشاء یہ ہوتا ہے کہ تم یہ ثابت کرو کہ یہ مُسلمان بادشاہ تو بُرا تھا لیکن فلان یوروپین بادشاہ بہت اچھا تھا حالانکہ اُس یوروپین بادشاہ میں بھی ہزاروں عیوب ہوتے ہیں۔پس یہ طریق درست نہیں تمہیں یہ دیکھنا چاہیے کہ محمود غزنوی نے جو اخلاق دکھائے وہ اُس زمانہ کے اوربادشاہوں کے مقابلہ میں کیسے تھے۔اگر اپنے زمانہ کے بادشاہوں کے مقابلہ میں اُس نے اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں تو گو اس میں بعض کمزوریاں بھی ہوں پھر بھی تاریخی نقطۂ نگا ہ سے وہ ایک اعلیٰ درجہ کا بادشاہ سمجھا جائے گا اور اُس کا مقابلہ موجودہ زمانہ کے کسی بادشاہ سے نہیں کیا جائے گا۔اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ ایڈیسن نے کئی ایجادات کی تھیں اس کے بعد ایجادات کا سلسلہ ایڈیسن کی ایجادات سے کئی گناہ بڑھ گیا مگر اس سے ایڈیسن کی عزت میں کمی نہیں آسکتی۔اس لئے کہ اپنے زمانہ میں اُس نے ایسا کام کیا جو نہایت شاندا ر تھا۔اسی طرح اگر محمود غزنوی نے اپنے زمانہ کے بادشاہوں