تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 25

آتے۔بڑے سے بڑا آدمی بھی ان نظاروں کو دیکھےگا تو خاموشی سے گذر جائے گا اور اُسے یہ خیال نہیں آئے گاکہ ان باتوں کے خلاف نفرت کااظہار کرے۔مگر جب نبی کا زمانہ آتا ہے تو پھر لوگ شرمانے لگتے ہیںاور وہ کہنے لگ جاتے ہیںکہ یہ بھی بُری بات ہے اور وہ بھی بُری بات ہے۔پھرلباس زینت کا موجب بھی ہوتا ہے اور کام کرنے والوں کے لئے ایک رنگ میں رات ہی زینت کا باعث ہوتی ہے۔عرب میں رواج ہے کہ غریب سے غریب آدمی بھی روزانہ اپنے کپڑے دھوتا ہے یا بعض امیر لوگ رات کو اور کپڑے پہنتے ہیں اور دن کو اَور۔دن میں تو کام کاج کرنے کی وجہ سے لباس خراب ہو جاتا ہے لوگ اچھا لباس نہیں پہن سکتے مگر رات کو فارغ ہو کر پہنتے ہیں اور آرام سے بیٹھتے ہیں۔بعض ممالک یعنی یورپ وغیر ہ میں جا کر دیکھ لو امیر سے امیر آدمی دن کے وقت کارخانوں وغیرہ میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور چار چار سو پانچ پانچ سو تنخواہ پر ملازم ہوتے ہیں لیکن لباس خراب ہوتا ہے۔لیکن جہاں چار بجے اور کام سے فارغ ہوئے غسل کر کے صاف ستھرے کپڑے پہن لیتے اور آرام سے اپنے گھر بچوں اور بیوی کے پاس بیٹھتے ہیں۔وَّ جَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشًا۪۰۰۱۲ اور ہم نے دن کو زندگی ( کے اظہار) کا ذریعہ بنایا ہے۔حل لغات۔مَعَاشًا مَعَاشٌ عَاشَ کا مصدر ہے اور عَاشَ یَعِیْشُ مَعَاشًا کے معنے ہوتے ہیں صَارَذَا حَیَاۃٍ (اقرب ) یعنی وہ زندہ ہوا۔پس مَعَاشَ کے معنے ہوئے زندگی والا ہونا۔اور جَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا کا یہ مطلب ہوا۔کہ ہم نے دن کو حیات کے اظہار کا ایک موقع بنایا ہے۔اسی طرح لغت میں مَعَاشًا کے ایک معنے یہ بھی لکھے ہیں کہ مُلْتَمَسًا لِلْعَیْشِ (اقرب) اس صورت میں جَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا کے معنے یہ ہوں گے کہ ہم نے دن کو ایسا بنایا ہے کہ اُس میں انسان اپنے عیش کے سامان تلاش کرتا ہے گویا جَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا کے ایک معنے ہوئے دن کو ذوحیات بنایا ہے اور دوسرے معنے ہوئے مُلْتَمَسًا لِلْعَیْشِ یعنی دن ایک ذریعہ سامانِ معیشت کے تلاش کا ہوتا ہے۔نہار کو معاش بنانے کا مطلب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرماتا ہے کہ ہم نے دن کو ایک حیات کی چیز بنایا ہے یعنی دن اپنی ذات میں حیات کو ظاہر کرنے والا اور وہ زندہ چیز نظر آتی ہے۔دوسرے معنے یہ ہوںگے