تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 24
اندھیرے میں جب کوئی شخص سویا ہوا ہوتو اس کے سوتے وقت کے نقائص دوسروں کو معلوم نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ بھی سوئے ہوئے ہوتے ہیں اور کوئی دوسرا شخص ان نقائص کو دیکھ نہیں سکتا لیکن اگر دن کے وقت کوئی شخص سوئے تو دوسرے شخص کو فوراًاس قسم کے عیوب نظر آجائیں۔سوتے وقت انسان کی عجیب عجیب حالتیں ہوتی ہیں اور بعض تو یقیناً ایسی ہوتی ہیں جن کو اگر دوسرا شخص دیکھ لے تو اُسے سخت کراہت آئے بعض دفعہ ایک بڑا شخص ہوتا ہے لیکن اُس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ جب وہ سوتا ہے تو اُس کا منہ کُھلا رہتا ہے اور اُس پر مکھیاں بیٹھتی ہیں۔لیکن اگر وہ رات کو سوتا ہے تو اس کا یہ نقص پوشیدہ رہتا ہے اسی طرح بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ سوتے وقت خراٹے شروع کر دیتے ہیں۔بعض نہایت قابلِ نفرت طریق پرسوتے ہیں۔کوئی بلّی کی طرح سوتا ہے کوئی مچھلی کی طرح سوتا ہے اور کوئی کسی طرح سوتا ہے۔غرض سونے کی ایسی ایسی حالتیں ہوتی ہیں جن کو دیکھ کر گھِن پیدا ہوتی ہے۔رات عیوب کے ڈھک جانے کا ایک ذریعہ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَعَلْنَا الَّیْلَ لِبَاسًا ہم نے رات کو لباس بنایا ہے یعنی سونے کا عام وقت رات ہوتا ہے اور رات میں سونے والوں کے جسمانی عیوب ڈھک جاتے ہیں۔اگر انسان عام طور پر دن کو سوتا تو اس کے عیب ظاہر ہو جاتے لیکن چونکہ وہ رات کے اندھیرے میں سوتا ہے اس لئے اُس کے سوتے وقت کے عیوب کا پتہ نہیں لگتااوررات اُن پر پردہ ڈال دیتی ہے۔روحانی لیل لوگوں کے لئے بطور لباس کے اسی طرح روحانی لَیْل بھی ایک لباس ہوتی ہے کیونکہ رات اسی کو کہتے ہیں جب سارے لوگ سوئے ہوئےہوں جس طرح جسمانی لَیْل لباس کا کام دیتی ہے۔اسی طرح روحانیلَیْل بھی لباس کا کام دیتی ہےکیونکہ ساری قوم مُردہ ہوتی ہے کوئی شخص کسی دوسرے کا کوئی عیب نہیں دیکھتا جیسے کہتے ہیں حمام میں سارے ننگے۔اُس زمانہ میں بھی روحانی لحاظ سے سب ننگے ہوتے ہیں۔ہر شخص میں بدی ہوتی ہے۔ہر شخص میں عیب ہوتا ہے اور چونکہ ہر شخص گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے اس لئے کسی دوسرے کا گناہ اُسے نظر نہیں آتا۔جیسے اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانہ میں ہر شخص شرک میں مبتلا تھا۔فرق صرف اتنا تھا کہ کوئی بڑا مشرک تھا اور کوئی چھوٹا مشرک تھالیکن باجود اس کے کہ ہر شخص شرک میں مبتلا تھا کوئی شخص دوسرے کے نقص کا اظہار نہیں کرتا تھا۔جب نبی آتا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے روحانی سورج کا طلوع کر دیتا ہے تو پھر لوگوں کو ایک دوسرے کے نقائص نظر آنے لگ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں فلاں ایسا ہے اور فلاں ایسا ہے مگر جب تک سب قوم سوئی ہوئی ہو کوئی شخص دوسرے کے عیب کونہیں دیکھ سکتا۔جیسے یورپ میں ننگے ناچ ہوتے ہیں مگر کسی کے دل میں یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ یہ بھی کوئی گندی چیز ہے کیونکہ روحانی لَیْل اُن پر چھائی ہوئی ہے اور رات کی تاریکی کی وجہ سے اُنہیں یہ نقائص نظر نہیں