تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 26
کہ ہم نے نہار کو ذریعہ عیش بنایا ہے یعنی وہ انسان کے لئے زندگی کے سامان تلاش کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔اس کے علاوہ اگر مَعَاشًا کو مبالغہ کے معنوں میں لیا جائے تو یہ جَعَلَ کا مفعول بہٖ بن جاتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہو گی جیسے کہتے ہیں زَیْدٌ عَدْلٌ پس علاوہ مفعول فیہ ہونے کے یہ اس کے مفعول بہٖ کے طور پر بھی استعمال ہو سکتا ہے کہ ہم نے نھار کو معاش بنا دیایعنی نھاراور معاش کا آپس میں اتنا گہرا تعلق ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ معاش نھار ہے اور نھارمعاش ہے تو یہ بالکل جائز ہے جیسے کہتے ہیںزَیْدٌ عَدْلٌ یعنی زید کا عدل سے اتنا گہرا تعلق ہے کہ اگر ہم یہ کہیں کہ زید عدل ہےاور عدل زید ہے تو یہ جائز ہو گا۔قرآن کریم میں بھی اس کی مثال پائی جاتی ہے سورۂ عنکبوت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ(العنکبوت :۶۵) حَیْوَان کا لفظ یہاں حیات کے مبالغہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ دارِ آخرت ہی اصل زندگی ہے۔اب دارِ آخرت ایک جگہ کا نام ہے اور کوئی خاص جگہ زندگی نہیں کہلا سکتی مگر چونکہ انسان دارِ آخرت میں ہی حقیقی طور پر زندہ ہو گا اور اصل زندگی وہی ہے جو انسان کواگلے جہان میں حاصل ہوگی اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ دارِ آخرت ہی زندگی ہے۔یعنی اگرہم یہ کہیں کہ دارِ آخرت کی زندگی ہی حقیقی زندگی ہے تو یہ بالکل جائز ہے۔نہار اور معاش کا گہرا تعلق پس جَعَلْنَا النَّھَارَ مَعَاشًا کے یہ معنے ہوں گے کہ معاش کا دن کے ساتھ اتنا بھاری تعلق ہے اور رات کے ساتھ معاش کا اتنا کم تعلق ہےکہ اگر ہم یہ کہیں کہ خدا تعالیٰ نے دن کو معاش بنا دیا ہے یعنی دن میں اُس نے اتنےسامان معاش کمانے کے پیدا کر دئیے ہیں کہ اور کسی وقت وہ سامان میسَّر نہیں آ سکتے تو یہ بالکل درست ہو گا۔یہ معنے مَعَاشًا کے مفعول بہٖ ہونے کی صورت میں ہیں لیکن اگر اسے مفعول فیہ سمجھا جائے تو اس کے معنے وقتِ معاش کے ہوں گے یعنی دن کو ہم نے ایک ذریعۂ معاش بنا دیا ہے۔دوسرے اوقات میں انسان معاش کو تلاش نہیںکر سکتا لیکن دن اُس کے حصولِ معاش کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔مَعَاشًا کے دو معنے مَعَاشًادرحقیقت عَاشَ کا مصدر ہے اور مَعَاشَ کے معنے ایک تو محض حیاۃٌ کے ہوتے ہیں اور دوسرے معنے حیوانی حیات کے ہوتے ہیں۔عام معنے اس کے حیوانی حیات کے ہی ہوتے ہیں۔یہ مطلب نہیں کہ اس کے کوئی بُرے معنے ہیں بلکہ حیوانی حیات سے مراد صرف وہ زندگی ہے جو کھانے پینے سے تعلق رکھتی ہے۔تفسیر۔اِن آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ جس طرح دن کے بعد رات آتی ہے اسی طرح قوموں پر بھی بعض دفعی تاریکی کا دَور آجاتا ہے اور وہ تاریکی کادَور اُن کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے نہار کے بعد لیل کی ظلمت دنیا پر چھا جاتی ہے۔