تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 282

اسلام کو غالب کرے گا اور پھر ایک لمبے عرصۂ ترقی کے بعد کفر ترقی کرے گا اور اس وقت دنیا تباہ ہو جائے گی اور ہم تم کو اے کفار جن کا نام و نشان مٹے ہوئے اس وقت تک دو ہزار سال ہو چکے ہوں گے اس دن سے ڈراتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ وہ اب سے صرف دو ہزار سال کے بعد آنے والا ہے کوئی عقلمند آدمی بھی لوگوں کے سامنے ایسی بات پیش کر سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ کی طرف جو سب عالموں سے اعلم ہے وہ بات کیوں منسوب کی جاتی ہے جسے خود انسان اپنی نسبت منسوب کیا جانا پسند نہیں کرتا۔پس صاف ظاہر ہے کہ اس اقتراب ساعۃ سے مراد اسلام کا غلبہ ہے اور جیسا کہ عرب کے محاورہ سے ظاہر ہے قمر کے معنے عرب کی حکومت یا عرب کے سردار کے ہوتے ہیں(شرح زرقانی علی موطا امام مالک کتاب الجنائز باب ما جاء فی دفن المیت ،السیرۃ النبویۃ لابن ہشام امر صفیۃ ام المومنین)۔پس اللہ تعالیٰ نے پہلے کفار اور مسلمانوں کو انشقاقِ قمر کا معجزہ دکھایا پھر قرآن کریم میں اس معجزہ کی تفسیر بیان فرما دی اور فرمایا کہ تم لوگ انشقاق قمر کا معجزہ دیکھ چکے ہو وہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ عربوں کی حکومت (یعنی کفار عربوں کی حکومت) اب تباہ ہونے والی ہے اور اسلام کی ترقی کا وقت جو دشمنانِ اسلام کے لئے ایک قیامت کا نظارہ پیش کرے گا نزدیک آگیا ہے اور اس آیت میں ساعت یا قیامت سے مراد اسلام کی ترقی کا دَور ہے نہ کچھ اَور۔اسی طرح سورۂ ممتحنہ میں بعض مسلمانوں کا ذکر کر کے کہ وہ بعض دفعہ مسلمانوں کی خبریں کفار کو بھجوا دیتے ہیں اور یہ بُرا فعل ہے فرماتا ہے اِنْ يَّثْقَفُوْكُمْ يَكُوْنُوْا لَكُمْ اَعْدَآءً وَّ يَبْسُطُوْۤا اِلَيْكُمْ اَيْدِيَهُمْ وَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ۔لَنْ تَنْفَعَكُمْ اَرْحَامُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ١ۛۚ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ۛۚ يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ (الممتحنة:۳،۴ )یعنی یہ کفار تو تمہارے پکّے دشمن ہیں اگر تم کو پکڑنے کا موقعہ ملے کوئی موقعہ دشمنی کا جانے نہ دیں اور اپنے ہاتھ تمہاری طرف سزا کے لئے بڑھائیں اور اسی طرح زبان درازی سے نہ چوکیں اور ان کا تو دل یہی چاہتا ہے کہ تم کافر ہو جائو۔لیکن یاد رکھو کہ خواہ یہ لوگ تمہارے عزیز ہوں یا اولاد یہ تم کو قیامت کے دن نفع نہ دیں گے اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اس دن امتیاز قائم کر دے گا اور اللہ تعالیٰ اُسے جو تم کرتے ہو دیکھ رہا ہے۔اس آیت میںیوم قیامت سے مراد وہی فیصلہ کا دن ہوا جو اس دنیا میں فتح مکہ اور بعد کے زمانہ میں ظاہر ہوا اور جس نے کافر و مومن کو الگ الگ کر دیا۔قومی ترقی میں کفار کوئی مدد نہ کر سکے حتی کہ غزوہ حنین میں بجائے فائدہ پہنچانے کے کفار مسلمانوں کے بھاگنے کا موجب ہوئے اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عباسؓ نے آواز دی کہ اے انصار! اے بیعتِ رضوان کرنے والو! خدا کا رسول تُم کو بلاتا ہے تو انصار غیر معمولی قربانی کر کے لوٹے اور مسلمانوں کی شکست فتح سے بدل گئی لیکن کفار نے جا کر مکہ ہی میں دم لیا(السیرة النبویة لابن ہشام زیر عنوان غزوة حنین فی ستة ثمان بعد الفتح)۔پس اس