تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 283

آیت کا مضمون جب پوری طرح اس دنیا میں پورا ہوا ہے بغیر کسی تاویل یا توجیہہ کے۔تو اس کومرنے کے بعد کے زمانہ پر لگانا کوئی معنے نہیں رکھتا۔اسی طرح سورۂ بقرہ میں فرماتا ہے زُيِّنَ لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَا وَ يَسْخَرُوْنَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا١ۘ وَ الَّذِيْنَ اتَّقَوْا فَوْقَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ (البقرة:۲۱۳)اس آیت میں بھی یَوْمَ الْقِیَامۃ فتح مکّہ وغیرہ قسم کے واقعات کی نسبت استعمال ہوا ہے۔یہاں فرمایا گیا ہے کہ کافر ورلی زندگی کو اچھا سمجھتے ہیں یعنی موجودہ وقت کی طاقت پر گھمنڈ رکھتے ہیں حالانکہ انجام مسلمانوں کا اچھا ہو گا اور قیامت کے دن مسلمان کافروں پر غالب ہوں گے اور انہیں بے حساب رزق ملے گا۔یہ واقعہ اسی دنیا میں فتح مکّہ اور بعد کے واقعات سے پورا ہوا۔اگر یہ معنے کرو کہ مسلمان مرنے کے بعد قیامت کے دن کافروں پر غالب ہوں گے تو اول تو یہ دلیل و برہان نہیں رہتی کیونکہ مرنے کے بعد کے واقعہ کو حجت کے طور پر پیش کرنا ایک بے فائدہ امر ہے اس سے کون شخص ایمان حاصل کرسکتا ہے؟ مرنے کے بعد تو ایمان کا نفع ختم ہو جاتا ہے۔دوسرے اس صورت میں آیت قرآنی کا یہ مطلب ہو گا کہ مسلمانوں کو غلبہ اس دنیا میں نہ ملے گا مرنے کے بعد ملے گا اور یہ بات بالبداہت غلط ہے۔مسلمانوں کو فتح مکّہ اور بعد کی جنگوں سے اسی دنیا میں غلبہ ملا۔اگر کہا جائے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بغیر حساب رزق دینے کا ذکر کیا ہے اور یہ بعد ازموت زندگی میں ہی ممکن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بغیر حساب کے دو معنے ہوتے ہیں ایک تو یہ کہ عمل کی نسبت زیادہ ملنا گویا عمل کے حساب سے جس قدر ملنا چاہیے تھا اس سے زیادہ مل گیا۔دوسرے معنے اس کے یہ ہوتے ہیں کہ جس کو رزق ملے گا وہ اُسے نہایت اچھی طرح خرچ کرے گا اور اُسے اس کا حساب نہ دینا ہو گا۔حساب اُسی وقت دیا جاتا ہے کہ جب فرض کو صحیح طور پر بجا نہ لایا جائے۔چنانچہ احادیث میں ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا تباہ ہوا۔اس پر حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے فَسَوْفَ یُحَاسِبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔کہ مومنوں کا بھی حساب ہو گااس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حساب سے مراد یہ ہے کہ پوری طرح حساب لیا جائے ورنہ مومن کا حساب تو یوں ہی سرسری ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے (بخاری کتاب الرقاق باب من نوقش الحساب عذّب) پس بغیر حساب کے ایک معنے یہ ہیں کہ مومنوں کو جو ملے گا وہ اُسے نیک طور پر خرچ کریں گے اور اس طرح حساب کی زحمت سے بچ جائیں گے اور یہ دونوں معنے مسلمانوں کی زندگی میں ہی پورے ہو گئے مرنے کے بعد کی قیامت کا انہیں انتظار نہیں کرنا پڑا۔جو کچھ مسلمانوں کو ملا بِلا حساب ملا۔اُن کی قربانیاں بے شک بہت تھیں مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو اجر انہیں ملا وہ ان کی قربانیوں سے بہت زیادہ