تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 281

قیامت کے نیچے لکھتے ہیں وَقَدْ وَرَدَ فِیْ الْکِتٰبِ وَالسُّنَّۃِ عَلٰی ثَلَاثَۃِ اَقْسَامٍ اَلْقِیَامَۃُ الْکُبْرٰی وَالْبَعْثُ لِلْجَزَائِ وَالْوُسْطٰی وَھِیَ اِنْقِرَاضُ الْقَرْنِ وَالصُّغْریٰ وَھُوَ مَوْتُ الْاِنْسَانِ یعنی قرآن کریم اور حدیث سے قیامۃ کے تین استعمال ثابت ہیں۔قیامت کبریٰ جو جزاء سزاء کے لئے بعثتِ ثانیہ کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے اور قیامت وسطٰی جس سے مراد پہلی صدی کا خاتمہ ہے یعنی جب مسلمانوں میں تنزّل کے آثار ظاہر ہوں گے اور صغریٰ یعنی موت انسانی۔قرآن کریم سے اسی امر کی تصدیق ہوتی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ روشنی لفظ قیامت اور ساعۃ پر پڑتی ہے (یہ دونوں لفظ ہم معنی استعمال ہوتے ہیں)چنانچہ قرآن کریم پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ قیامت (۱)نبی کی قوم کی ترقی (۲)دشمنوں کے تنزّل (۳)اور نبی کی قوم کے زمانۂ ترقی کے بعد تنرّل کے دَور پر بولا جاتا ہے۔پہلے معنوں کے مطابق قرآن کریم میں سورۂ قمر کی یہ آیت ہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ(القمر:۲) ساعت یعنی قیامت قریب ہی آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے عام طور پر مسلمانوں میں شق قمر کے معجزہ کی وجہ سے یہ خیال پیدا ہو گیا ہے کہ اس میں شق قمر کے معجزہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے حالانکہ اس آیت میں کوئی ایسی بات نہیں جس سے معلوم ہو کہ صرف اسی معجزہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ اس آیت میں شق قمر کے مضمون کو ضمنی امر کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اقتراب ساعۃ کی دلیل قرار دیا گیا ہے۔قرآن مجید میں قیامت سے مراد کفار کی تباہی پس شق قمر کے کوئی بھی معنے لو خواہ عرب کی حکومت کے زوال کے یا اس معجزہ کے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور کافروں کو اس طرح دکھایا کہ انہیں چاند پھٹتا ہوا نظر آیا بہرحال یہ امر ثابت ہے کہ قرآن کریم اس انشقاق قمر کو اس امر کی دلیل کے طور پر پیش کرتا ہے کہ اب قیامت کو آیا سمجھو۔اور یہ ظاہر ہے کہ وہ قیامتِ کبریٰ جس وقت تمام عالم مر کر دوبارہ اُٹھے گا اب تک کہ اس نشان پر تقریباً تیرہ سو ستر سال گزر چکے ہیں ظاہر نہیں ہوئی اور جبکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس امت میں مسیح اور مہدی ظاہر ہونے والے ہیں اور ان کے ذریعہ سے اسلام پھر ترقی کرنے والا ہے اگر ان کا زمانہ اور اُن کے بعد کا زمانہ عام مسلمان (کیونکہ ہمارے نزدیک وہ ظاہر ہو چکے ہیں) سات سو سال کا بھی تسلیم کر لیں تو قیامت دو ہزار سال بعد آئے گی ان حالات میں کفار کو اقتراب ساعۃ سے ڈرانے کے کوئی بھی تو معنے نہیں رہتے اور یہ ایک تمسخر ہو جاتا ہے جو قرآن کریم کی شان سے بعید ہے کہ وہ کفّار مکہ کو ڈراتا ہے کہ اے کفارِ مکّہ! تم تباہ ہو جائو گے اور اسلام غلبہ پا لے گا پھر وہ زوال پذیر ہو گا اور اس کے زوال پر صدیاں گزرنے پر ایک مسیح ظاہر ہو گا اور وہ دنیا پر غالب آکر