تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 280
ہو جاتا ہے اور قلوب کی مخفی طاقتیں ظاہر ہو جاتی ہیں چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی ابو بکر کے ابوبکرؓ بننے کا اور ابو جہل کے ابو جہل بننے کا موجب ہوئے ورنہ ابوجہل تو پہلے ابوالحکم کہلاتا تھا جب اُس کو وہ روحانی وجود نظر آیا جس کے ظاہر ہونے میں اُس نے اپنی طاغوتی طاقتوں کی موت دیکھی تو یکدم اس نے اپنی طاغوتی قوتوں کو بڑھا دیا تا کہ وہ اس نورانی وجود کو دنیا سے مٹا دے تب اس کی وہ شکل ظاہر ہوئی جس سے آج ہم سب نفرت کرتے ہیں اگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے اور لوگ ابوالحکم سے ملتے تو شاید تاریخوں میں وہ یہ ذکر کرتے کہ ابوالحکم عرب کا ایک شریف اور بااخلاق رئیس تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غالب نورانی وجود کو دیکھ کر اس کی طاغوتی قوتیں جوش میں آگئیں اور اس کا اندرونی گند دنیا پر ظاہر ہو گیا۔اسی طرح اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہ آئے ہوتے اور لوگ حضرت ابوبکرؓ سے ملتے تو وہ تاریخوں میں ذکر کرتے کہ ابو بکر عرب کا ایک شریف، اچھا اور دیانتدار تاجر تھا۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے نتیجہ میں ابو بکر کا حُسن اس رنگ میں ظاہر ہوا کہ آج تک سب دُنیا اُس کی تعریف پر مجبور ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے ہی ابوبکر ابوبکرؓ بنا اور ابو جہل ابو جہل بنا۔موجودہ زمانہ میں ہی دیکھ لو مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت نہ کرتے یا مولوی ثناء اللہ صاحب مخالفت نہ کرتے اور ہمیں اُن کا تاریخوں میں ذکر کرنا پڑتا تو ہم کہتے کہ یہ اپنی قوم کے بڑے عالم تھے۔صداقت سے ان کی اندرونی دشمنی کبھی ظاہر نہ ہوتی مگر اب ان کی تحریروں کو پڑھ کر یوں پتہ لگتا ہے کہ سچ کو دیکھ کر اُن کا دل چاہتا ہے کہ اُسے بالکل ملیا میٹ کر دیں۔یہ انقلاب صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے ہوا ورنہ اُن کی یہ طاقت اُبھرنی نہ تھی یا حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو اگر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بغیر ملتے تو ہم یہی کہتے کہ آپ ایک بڑے عالم تھے۔طبیب تھے اور غریب پروری کا مادہ اپنے اندر رکھنے والے تھے اس سے زیادہ ہمیں اُن کی نیکی نظر نہ آتی۔الغرض نبی کی بعثت بھی ایک قیامت ہی ہے پھر وہ گھڑی بھی ایک قیامت ہوتی ہے جب نبی کی بعثت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے دشمنوں کو تباہ کرتاہے کیونکہ قیامت بمعنی موت بھی آتی ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ مَّاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ (مجمع بحار الانوار زیر لفظ قیامۃ و تشیید المبانی حدیث نمبر ۲۷۶) جو مر جاتا ہے اس کی قیامت اُسی وقت آجاتی ہے۔اگر ایک شخص کی موت کو قیامت کہہ سکتے ہیں۔تو قوم کی موت اور تباہی قیامت کہلانے کی زیادہ مستحق ہے۔قرآن اور حدیث میں لفظ قیا مت کے تین استعمال علّامہ شیخ محمد طاہر سندھی مصنّف مجمع بحار الانوار لفظ