تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 271 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 271

یَاْکُلُہٗ النَّاسُ وَلَا یَزْرَعُوْنَہٗ (فتح البیان زیر آیت ھذا) سورۃ النازعات اور سورۃ عبس کے ایک مضمون کی مشابہت مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِاَنْعَامِکُمْ۔ان تمام چیزوں کو ہم نے تمہارے لئے فائدہ کا موجب بنایا ہے اور تمہارے اَنْعام کے لئے بھی۔قرآن کریم کے بعض مقامات ایسے ہیں جو لفظی رنگ میں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں اسی قسم کی مشابہت اس جگہ بھی پائی جاتی ہے چنانچہ یہی مضمون سورۂ نازعات میں بھی تھا مگر اور رنگ میں۔وہاں فرمایا تھا ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَا۔رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوّٰىهَا۔وَ اَغْطَشَ لَيْلَهَا وَ اَخْرَجَ ضُحٰىهَا۔وَ الْاَرْضَ بَعْدَ ذٰلِكَ دَحٰىهَا۔اَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَ مَرْعٰىهَا۔وَ الْجِبَالَ اَرْسٰىهَا۔مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ اس سورۃ میں بھی اسی طرح کی چیزیں گنائی ہیں کہ فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤ۔اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ صَبًّا۔ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّا۔فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّا۔وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًا۔وَّ زَيْتُوْنًا وَّ نَخْلًا۔وَّ حَدَآىِٕقَ غُلْبًا۔وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّا۔مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ فرق صر ف یہ ہے کہ سورۂ نازعات میں زیادہ تر آسمانی چیزوں کو پیش کیا گیا تھا۔گو زمینی چیزوں کا بھی اس میں ذکر تھا مگر اصل مقصد نظام سماوی کو پیش کرنا تھا لیکن اس جگہ نظام ارضی کو خصوصیت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔گویا پچھلی سورۃ میں اُس وسیع نظام کی طرف اشارہ کیا گیا تھا جو آسمان اور زمین دونوں پر حاوی ہے مگر اس سورۃ میں اُس مخصوص نظام کی طرف اشارہ ہے جو زمین میں روئیدگی پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے۔وہاں خدا تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا تھا کہ جس طرح زمین پر آسمان کا وجود ضروری ہے اور بغیر آسمانی نظام کے زمینی نظام قائم نہیں ہو سکتا اسی طرح تمہارے لئے بھی ایک روحانی بلندی کی ضرورت ہے۔اگر تم یہ خیال کرو کہ اس رُوحانی بلندی کے بغیر تم نظام ارضی کو قائم کر سکو گے تو یہ تمہاری غلطی ہو گی جس طرح آسمان کے بغیر زمین کا وجود عبث ہے اسی طرح روحانی نظام کے بغیر جسمانی نظام عبث اور بےکار ہوتا ہے یہاں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسانی فطرتوں میں سے بعض ایسی ہیں جو قرآن کریم سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض ایسی ہیں جو قرآن کریم سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں۔وہ فطرتیں جو قرآن کریم سے مناسبت رکھتی ہیں وہ آپ ہی آپ اس طرف آجائیں گی اور جو اس سے مناسبت نہیں رکھتیں وہ اس طرف توجہ بھی نہیں کریں گی۔پس سورۂ نازعات میں اور مضمون تھا اور اس سورۃ میں اور مضمون ہے۔وہاں آسمان کا ذکر کلام الٰہی کے نزول کی ضرورت پر روشنی ڈالنے کے لئے پیش کیا گیا تھا اَور یہاں یہ بتایا ہے کہ بعض طبائع قرآنی تعلیم سےمناسبت رکھتی ہیں اور بعض نہیں رکھتی وہ طبائع جو اس تعلیم سے مناسبت رکھتی ہیں وہ دوڑتی ہوئی اس طرف آجائیں گی اور جن کے قلب میں اس سے کوئی مناسبت نہیں ہو گی وہ اس سے دُور رہیں گی جیسے زمین کو دیکھ لو کہ اس