تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 272
میں سے دانے بھی اُگتے ہیں۔انگور بھی پیدا ہوتے ہیں۔درخت بھی پیدا ہوتے ہیں۔زیتون بھی پیدا ہوتا ہے۔کھجوریں بھی پیدا ہوتی ہیں۔باغات بھی پیدا ہوتے ہیں۔میوے بھی پیدا ہوتے ہیں۔اور چارہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ان میں سے کوئی چیز ایسی ہے جسے انسان مُنہ مارتا ہے اور کوئی چیز ایسی ہے جسے جانور مُنہ مارتا ہے۔یہی انسانی طبائع کا حال ہے۔جو قرآن کے مناسب حال ہیں وہ اس طرف آجائیں گی اور جو کفر کے مناسب حال ہیں وہ اُس طرف چلی جائیں گی۔گویا فطرتیں خود بخود بول اٹھیں گی اُن کے مناسب حال کون سی چیز ہے۔جیسے انگور ہوں تو اُن کی طرف انسان جائے گا اونٹ نہیں جائے گا لیکن اگر کیکر کا درخت ہو تو اس کی طرف اونٹ جائے گا انسان نہیں جائے گا۔تو فرماتا ہے انسان نے بیشک ابھی تک اس قرآن پر عمل نہیں کیا مگر وہ مجبور ہے جس دن قرآن کریم کی روئیدگیاں ظاہر ہوئیں اور اس کا حُسن دنیا میں چمکا تم دیکھ لو گے کہ مناسب حال فطرتیں اس کی طرف دوڑتی ہوئی آئیں گی۔اب تو یہ لوگ تمہیں تھوڑے سے نظر آتے ہیں مگر پھر گروہ در گروہ اور جوق در جوق لوگ اس مذہب میں داخل ہونے شروع ہو جائیں گے۔چنانچہ مثال دیتے ہوئے فرماتا ہے۔تم دنیا میں دیکھ لو۔کچھ دانےؔ۔انگورؔ۔زیتونؔ۔کھجورؔ۔باغاتؔ۔اور میوےؔ ہوتے ہیں اور کچھ جھاڑیاں اورچارہ وغیرہ ہوتا ہے۔تم اُن چیزوں کی طرف چلے جاتے ہو جو تمہارے مناسب حال ہیں اور جانور اُن چیزوں کی طرف چلے جاتے ہیں جو اُن کے مناسب حال ہیں۔اسی طرح جو نیک فطرتیں ہیں وہ قرآن کی طرف آجائیں گی اور جو بد فطرتیں ہیں وہ کفر کی طرف چلی جائیں گی۔یہ عجیب بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن چیزوں کا تو زیادہ ذکر کیا ہے جو انسانوں کے کھانے کے کام آتی ہیں مگر ان چیزوں کا کم ذکر کیا ہے جو جانوروں کے کھانے کے کام آتی ہیں چنانچہ چھ جگہ انسانوں کے کام آنے والی چیزوں کا ذکر کیا اور دو جگہ جانوروں کے کام آنے والی چیزوں کا۔اس میں اِس طرف اشارہ ہے کہ قرآن زیادہ آدمی کھینچ لے گا اور کفر اپنی طرف کم آدمی کھینچے گا۔چنانچہ جانور کے لئے تو صرف قُضِبٌ اور اَبٌ کا ذکر کیا مگر انسان کے لئے حَبًّا وَّعِنَبًا وَّقَضْبًاوَّزَیْتُوْنًا وَّنَخْلًا وَّحَدَآئِقَ غُلْبًا وَّ فَاکِھَۃً اتنی چیزوں کا ذکر کر دیا یہ بتانے کے لئے کہ قرآن کی طرف لوگوں کا رجوع زیادہ ہو گا اور کفر کی طرف کم۔پس فرماتا ہے یہ سوال ہی غلط ہے کہ اسلام کا غلبہ کس طرح ہو گا۔فطرتیں اپنی مناسب حال چیز کی طرف آپ ہی بھاگتی چلی آئیں گی وہ فطرتیں جو قرآن کریم کے مناسب حال ہیں وہ اس کی طرف آجائیںگی۔جیسے حبؔ اور عنبؔ اور زیتونؔ اور نخلؔ اور حدائقؔ اور فاکھتہ کی طرف انسان جاتے ہیں اور جو فطرتیں کفر کے مناسب حال ہیں وہ اُس کی طرف چلی جائیںگی جیسے جانور قضب اور اَبّ کی طرف جاتے ہیں۔انگوروں اور کھجوروں کی طرف نہیں جاتے۔