تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 270
وَّ عِنَبًا وَّ قَضْبًاۙ۰۰۲۹وَّ زَيْتُوْنًا وَّ نَخْلًاۙ۰۰۳۰ اور( اسی طرح) انگور اور ترکاریاں (اور سبز چارہ) اور زیتون اور کھجوریں وَّ حَدَآىِٕقَ غُلْبًاۙ۰۰۳۱وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ۰۰۳۲مَّتَاعًا لَّكُمْ وَ اور گھنے باغات اور میوے اور خشک گھانس (اور جھاڑیاں بھی) ( یہ سب) تمہارے اور تمہارے لِاَنْعَامِكُمْؕ۰۰۳۳ جانوروں کے فائدہ کے لئے (کیا گیا ہے)۔تفسیر۔چاہیے کہ انسان اپنے کھانے کی طرف دیکھے اور غور کرے کہ ہم اس کی جسمانی پرورش کے لئے کیا کچھ کرتے ہیں۔ہم نے اس کے لئے آسمان سے پانی برسایا پھر ہم نے زمین کو اس کی خاطر پھاڑا۔پھر ہم نے اُس میں سے دانے نکالے اور انگور پیدا کئے اور قضب پیدا کیا۔لُغت میں لکھا ہے کہ اَلْقَضْبُ کُلُّ شَجَرَۃٍ طَالَتْ وَسَبَطَتْ اَغْصَانُھَا وَالْقَتُّ۔وَالْقَتُّ: اَلْفِصْفِصَۃُ الْیَابِسُ وَالْفِصْفِصَۃُنَبَاتٌ تَعْلُفُہُ الدَّوَابُ وَھِیَ تُسَمَّی بِذَالِکَ مَادَامَتْ رَطْبَۃً فَاِذَاجَفَّتْ زَالَ عَنْھَا اِسْمُ الْفِصْفِصَۃِ وَسُمِّیَتْ بِالقَتِّ حَبُّھَا نَحْوُ الْکَرْسَنَّۃِ لٰکِنْ فِیْہِ طُوْلٌ (اقرب)قضبؔ کہتے ہیں ہر ایسے درخت کو جو اونچا بھی ہو اور اس کی شاخیں بھی اردگرد پھیلی ہوئی ہوں۔جانور اس کو شوق سے کھاتے ہیں خصوصًا اونٹ ایسے درخت کی طرف بہت رغبت سے جاتا ہے۔اسی طرح قتؔ کو بھی قضب کہتے ہیں اور قَتّ فِصْفِصَۃ کو کہتے ہیں یہ ایک روئیدگی ہے جس کو جانور کھاتے ہیں جب تک تازہ رہے فِصْفِصَۃ کہتے ہیں اور جب سُوکھ جائے تو اس کو قَتّ کہتے ہیں۔اس کا دانہ کرسنّہ کی طرح ہوتا ہے مگر اس سے کسی قدر لمبا ہوتا ہے (کرسنّہ گندنے کو کہتے ہیں جسے پنجابی میں بھوکاٹ کہا جاتا ہے) پھر فرماتا ہے ہم نے زیتون نکالا اور کھجوریں پیدا کیں اور باغات پیدا کئے منڈیروں والے۔ایسے باغات غُلْبًا جو بڑے گھنے ہیں۔غُلب اُس چیز کو کہتے ہیں جو مُلْتَفٌّ یعنی لپٹی ہوئی ہو۔پس حَدَائِقَ غُلْبًا کے معنے یہ ہوئے کہ ہم نے ایسے باغات پیدا کئے ہیں جن کی شاخیں ایک دوسرے سے لپٹی ہوئی ہیں یعنی بڑے گھنے ہیں۔اسی طرح ہم نے میوے پیدا کئے ہیں اور پھر چارہ بھی پیدا کیا ہے۔اَبٌّ اُن تمام چیزوں کو کہتے ہیں جن کو انسان نہیں کھاتا اور نہ اُن کو بوتا ہے۔قدرتًا زمین میں سے اُگ آتی ہیں اور جانور اُن کو کھاتے ہیں چنانچہ لکھا ہے اَلْاَبُّ کُلُّ مَا یُنْبِتَ الْاَرْضُ مِمَّا لَا