تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 269

گی۔اللہ تعالیٰ اسی نکتہ کی طرف توجہ دلاتا ہے اور افسوس کے ساتھ فرماتا ہے کہ لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ ہم نے انسان کو جو حکم دیا تھا اس کو اب تک اُس نے ادا نہیں کیا۔فرداً فرداً لوگوں نے اپنی اصلاح کی بہت کوششیں کی ہیں مگر قوم کی قوم کو اُبھار کر ترقی کے میدان میں اس طرح بڑھاتے چلے جانا کہ پھر اس کے گرنے کا کوئی امکان نہ رہے اور شیطان اُس کو ورغلانے سے مایوس ہو جائے یہ کام اَیسا ہے جس کی طرف ابھی تک توجہ نہیں کی گئی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت پر چونکہ مُختلف دَور آتے ہیں اس لئے ممکن ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دَوروں میں سے کوئی دَور ایسا بھی آجائے جس میں اس فرض کی ادائیگی ہو سکے جس کا کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ میں ذکر کیا گیا ہے۔اب تک الگ الگ کوششیں کر کے اُن کے نتائج کو دیکھا جا چکا ہے صحابہؓ نے تیس سال کوشش کی مگر پھر اُن کی نسلوں میں کمزوری پیدا ہو گئی اور نیکی کا تسلسل جاتا رہا۔اب ہمارے لئے موقع ہے کہ ہم اس کام کو سرانجام دینے کے کوشش کریں تاکہ قومی طور پر اسلام دنیا میں اس طرح قائم ہو جائے کہ پھر اس کے گرنے کا کوئی امکان ہی نہ رہے۔یہ کام ایسا ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔انفرادی رنگ میں بے شک بہت کوششیں ہوئیں مگر قومی طور پر اسلام کی برتری کی ایسی کوشش نہیں کی گئی کہ نیکی کا تسلسل قائم رہتا اور اسلام کے گرنے کا کبھی خطرہ پیدا نہ ہوتا۔پس کَلَّا لَمَّا یَقْضِ مَآ اَمَرَہٗ میں اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب تک انسان نے وہ بات نہیں کی جس کا ہم نے اسے حکم دیا تھا۔كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗمیں موعود کل ادیان کی بعثت کی ضرورت کی طرف اشارہ اس کے ایک اور معنے بھی ہو سکتے ہیں اور وہ یہ کہ انسانی قوتیں جس مقامِ عظیم کو حاصل کر سکتی ہیں اب تک انسان نے اُس مقام کو حاصل نہیں کیا پس تم کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ابھی موعود کل ادیان آنا باقی ہے جس سے انسانی ترقی کا آخری مقام وابستہ ہے او ر بجائے اس کے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو حقارت سے دیکھا جائے اس کی طرف سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہیے۔فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ اِلٰى طَعَامِهٖۤۙ۰۰۲۵اَنَّا صَبَبْنَا الْمَآءَ پس چاہیے کہ انسان اپنے کھانے کی طرف دیکھے (اور دیکھے) کہ ہم نے (بادلوں سے) پانی کو خوب برسایا ہے۔صَبًّاۙ۰۰۲۶ثُمَّ شَقَقْنَا الْاَرْضَ شَقًّاۙ۰۰۲۷فَاَنْۢبَتْنَا فِيْهَا حَبًّاۙ۰۰۲۸ پھر زمین کو خوب پھاڑا ہے پھر اس میں دانہ اگایا ہے۔