تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 263

انسان اس بات پر بھی غور نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ اُسے کس طرح پیدا کرتا ہے مِنْ نُّطْفَۃٍ وہ اسے ایک چھوٹے سے قطرہ سے پیدا کرتا ہے اور پھر پیدا کرنے کے بعد اُس نے اُسے چھوڑ نہیں دیا بلکہ فَقَدَّرَہٗ اس کا اندازہ مقرر کیا قَدَّرَہٗ کے متعلق مفردات والا لکھتا ہے کہ اَشَارَۃٌ اِلٰی مَا اَوْ جَدَہٗ فِیْہِ بِالْقُوَّۃِ فَیَظْھَرُ حَالًا فَحَالًا اِلَی الْوُجُوْدِ بِالصُّوْرَۃِ کہ وہ مخفی قوتیں جو خدا تعالیٰ نے انسان میںرکھی ہیں اور جن کو موقع موقع پر انسان ظاہر کرتا چلا جاتا ہے اُن کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا گیا ہے گویا خَلَقَہٗ فَقَدَّرَہٗ کے معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر اس میں ایسی طاقتیں اور قوتیں رکھیں جو ہر موقع و محل کے مطابق اس سے ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔جیسا کام ہوتا ہے ویسی ہی قوتیں اس سے ظاہر ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔گویا ایک وسیع ترقی کا میدان اللہ تعالیٰ نے اُس کے لئے پیدا کیا ہے۔ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ کا مطلب ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ اِدھر اُس نے انسان کے لئے ترقی کا ایک وسیع میدان پیدا کیا ہے اور اُدھر اس کے اندر ایسا مادہ رکھ دیا ہے کہ جب بھی کوئی اہم موقع اُس کے سامنے آئے اس کے مطابق اس کی اندرونی قابلیتیں اُبھر کر سامنے آجاتی ہیں اور اُسے کوئی قربانی بھی دوبھر محسوس نہیں ہوتی۔پس ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اندر ایسا مادہ پیدا کر دیا ہے کہ اگر وہ اپنی طبیعت پر ذرا بھی بوجھ ڈال لے تو ہر کام اس کے لئے آسان ہو جاتا ہے اور وہ بڑی بڑی دشوار گزارگھاٹیاں آسانی سے عبور کر جاتا ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ عادت بُری چیز ہے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عادت بھی ہمارے فضلوں میں سے ایک فضل ہے۔اور جب کسی کام کی عادت انسان کو ہو جائے تو پھر اس کام کے کرتے وقت کوئی دِقّت محسوس نہیں ہوتی۔پس کسی کام کی عادت ہو جانا ایک خوبی ہے بشرطیکہ اس عادت کا استعمال کسی بُرے موقع پر نہ ہو۔پس فرماتا ہے ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ۔انسان کو پیدا کرنے اور اس کے اندر ترقی کی قابلیتیں رکھنے کے بعد ہم نے اُس کا راستہ آسان کر دیاہے۔نماز پڑھنا پہلے انسان کو بڑا دوبھر معلوم ہوتا ہے مگر کچھ دن باقاعدگی اور التزام سے نمازیں پڑھنے کے بعد ایسی عادت ہو جاتی ہے کہ نمازوں کا پڑھنا بالکل آسان معلوم ہونے لگتا ہے۔روزے رکھنے لگیں تو پہلے مشکل معلوم ہوتے ہیں لیکن جب روزوں کی عادت ہو جائے تو پھر محسوس بھی نہیں ہوتا کہ یہ بھی کوئی مشکل کام ہے۔یہی حال صدقہ و خیرات اور دوسری نیکیوں کا ہے۔جن لوگوں کو صدقہ و خیرات کی عادت ہو جائے ہم نے دیکھا ہے کہ جب تک وہ روزانہ کچھ نہ کچھ صدقہ نہ کرلیں انہیں چین ہی نہیں آتا۔عربوں کو اس بات کی عادت تھی کہ وہ کھانا کھاتے وقت کسی اَور کو اپنے ساتھ ضرور شریک کر لیا کرتے تھے اور پھر یہ عادت رفتہ رفتہ ایسی پختہ ہو گئی کہ جب تک وہ کسی اَور کو اپنے ساتھ دسترخوان پر نہیں بٹھا لیتے تھے وہ کھانا نہیں کھا سکتے تھے اور تلاش کر کر کے دوسروں کو اپنے کھانے میںشریک