تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 264
کرتے تھے۔تو فرماتا ہے ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ بظاہر انسان کے سامنے قربانی ایک بہت بڑا وسیع میدان ہے مگر اس کے ساتھ ہی فطرتِ انسانی میں ہم نے یہ مادہ رکھ دیا ہے کہ جب وہ عمل کرنا شروع کر دے تو بجائے اس کے کہ کام بوجھل محسوس ہو وہ اُسے آسان معلوم ہونے لگتا ہے اور اس کی طرف اُسے دلی رغبت پیدا ہو جاتی ہے چنانچہ ایک نیکی کے بعد دوسری نیکی اور دوسری کے بعد تیسری نیکی میں وہ حصہ لینا شروع کر دیتا ہے۔اگر عادت نہ ہوتی تو ایک نیکی کا کام بھی سرانجام دینا اس کے لئے مشکل ہوتا مگر چونکہ رفتہ رفتہ کاموں کی عادت ہوتی چلی جاتی ہے اس لئے انسان کاموں سے گھبراتا نہیں بلکہ اُن میں ایک لذّت اور سُرور محسوس کرتا ہے۔پہلے وہ نماز پڑھتا ہے تو اُسے نماز کی عادت ہو جاتی ہے پھر روزے رکھتا ہے تو اُسے روزوں کی عادت ہو جاتی ہے۔پھر صدقہ وخیرات میں حصہ لیتا ہے تو اُسے صدقہ و خیرات کی عادت ہو جاتی ہے اس طرح وہ ایک ایک نیکی کو فتح کرتا چلا جاتا ہے اور آگے بڑھنا اس کے لئے بالکل آسان ہو جاتا ہے۔ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ۰۰۲۲ پھر (عمر طبعی کے بعد) اُسے ماردیا پھر اُسے (موعود) قبر میں رکھا۔٭ تفسیر۔فرماتا ہے اس کے بعد ہم نے اُس کو وفات دی یعنی ہمارا طریق یہ ہے کہ اس کے بعد ہم اُس کو وفات دے دیتے ہیں۔یہاں خدا تعالیٰ نے موت کو اپنے احسان کے طور پر پیش کیا ہے چنانچہ دیکھ لو اِن آیات میں ہر جگہ خدا تعالیٰ نے اپنے احسانات کا ہی ذکر کیا ہے فرماتا ہے مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ۔مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗ۔ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗ۔یہ سب احسانات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے شمار کرائے ہیں۔اِسی ذیل میں فرماتا ہے ثُمَّ اَمَاتَہٗ فَاَقْبَرَہٗ۔پس اماتت کو بھی یہاں احسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔فرماتا ہے جب انسان نیکیوں میں حصہ لیتا اور مسلسل حصہ لیتا چلا جاتا ہے تو آخر ایک وقت ایسا آتا ہے جب ہم کہتے ہیں اب تم نے بڑی محنت اُٹھا لی آئو ہم تم کو پنشن دیتے ہیں۔گویا موت کیا ہے ایک پنشن ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔دنیا میں لوگوں کو پنشن ملتی ہے تو وہ گورنمنٹ کے ممنون ہوتے ہیں مگر فرماتا ہے یہ عجیب نادان ہیں کہ ہم ان کو پنشن دیتے ہیں تو لوگ رونا شروع کر ٭نوٹ۔اس جگہ قائدہ بیان ہوا ہے اور اس لحاظ سے ترجمہ میں پیدا کرتا ہے۔اندازہ مقرر کرتاہے۔آسان بناتا ہے۔مار دیتا ہے وغیرہ کے الفاظ آنے چاہئیں لیکن چونکہ یہ الفاظ ترجمہ سے دور چلے جاتے تھے ہم نے ماضی کی جگہ ماضی ہی کے الفاظ رکھے ہیں لیکن مفہوم یہی ہے کہ انسان کی حالت ایسی ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کا سلوک اُس سے اس اس طرح کا ہوتا ہے پھر بھی وہ سمجھتا نہیں۔