تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 262

ناشکرا ہے قرآن اس کے سامنے تھا اور اس کے لئے موقع تھا کہ وہ اس کے احکام پر عمل کر کے سَفَرَۃ میں سے بن جاتا۔کِرَامٌ میں سے بن جاتا۔بَرَرَۃ میں سے بن جاتا۔اگر قرآن کے اندر صرف ذاتی خوبیاں ہوتیں تو کوئی شخص کہہ سکتا تھا کہ مجھے تو وہ خوبیاں اس کلام میں نظر نہیں آئیں مگر قرآن کی خوبیان وہ ہیں جو صرف ذاتی نہیں بلکہ متعدی ہیں اور دوسروں کے اندر بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔پس یہ انسان کیسا ناشکرا ہے کہ ہم نے تو اسے بڑھانے اور ترقی دینے کا سامان کیا مگر وہ اُلٹا اس کلام سے دُور بھاگتا ہے۔مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗؕ۰۰۱۹مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ۰۰۲۰ (وہ غور تو کرے) کہ کس چیز سے خدا نے اُسے پیدا کیا ہے نطفہ سے (پیدا کیا ہے) (پہلے تو)اُسے پیدا کیا پھر اس ثُمَّ السَّبِيْلَ يَسَّرَهٗۙ۰۰۲۱ کے لئے (ترقی کا ایک) اندازہ مقرر کیا۔پھر (اس کے) راستہ کو (آسان بنایا) خوب ہی (اُسے) آسان بنایا۔تفسیر۔آخر وہ یہ تو سوچے کہ ہم نے اُس کی پیدائش کس طرح کی ہے اور کن اعلیٰ اور بلند اغراض کے لئے اُسے دُنیا میں بھیجا ہے۔قرآن کریم کا یہ ایک عجیب وصف ہے کہ ایک طرف تو وہ اپنی شان کا اظہار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمیں تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔اگر تم مانو گے تو تمہارا اپنا فائدہ ہو گا اور اگر انکار کرو گے تو تمہارا اپنا نقصان ہو گا۔مگر دوسری طرف جس طرح ماں کے دل میں اپنے بچہ کے متعلق رحم اور محبت کے جذبات پیدا ہو جاتے ہیں اسی طرح قرآن کریم میں پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر محبت اور پیار سے اُن کو راہ راست پر لانے کی کوشش کرتا ہے۔ماں بھی اسی طرح کرتی ہے جب بچہ اس کا کہنا نہیں مانتا تو وہ ناراض ہو کر کہتی ہے کہ میرا کیا ہے میں نے تو تمہارے فائدہ کے لئے یہ بات کہی تھی مگر تھوڑی دیر کے بعد ہی وُہ پھر اُسے پُچکار کر کہنا شروع کر دیتی ہے کہ بچے کھانا کھا لے۔اور اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح بچہ اس کی بات مان لے۔مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗکہہ کر لطیف طریقہ سے قرآن پر غور کرنے کی تلقین اسی طرح قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَآاَکْفَرَہٗ میں اللہ تعالیٰ نے استغناء ظاہر کیا تھا کہ انسان ہلاک ہو جائے وہ کتنا بڑا ناشکر ا ہے قرآن جیسی کتاب اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے اور وہ پھر بھی تَلَھِّی اور اعراض سے کام لیتا ہے مگر یہ کہنے کے معًا بعد فرما دیا مِنْ اَيِّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ۔مِنْ نُّطْفَۃٍ۔گویا انسان کو پچکارنا شروع کر دیا کہ کسی طرح وہ اُس کی طرف واپس آجائے۔فرماتا ہے کیا