تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 255

کے زمانہ میں تھا اُسی طرح وہ اس زمانہ میں بھی ہے(The Encyclopedia Britanica underword Koran )۔پس یہ قرآن مُکَرَّمَہ ہے یعنی ہر قسم کی خطاء لفظی ومعنوی سے پاک ہے۔اور دنیا کی کوئی کتاب اس خوبی میںقرآن کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔سَفَرَةٍکے لفظ میں اس طرف اشارہ کہ قرآن یکدم دنیا میں پھیل جائے گا اس کے مقابلہ میں حاملین قرآن کی جو صفات بیان کی گئی ہیں اُ ن میں سے پہلی صفت سَفَرَۃ ہے گویا مُکَرَّمَۃ کے مقابل پر اللہ تعالیٰ نے سَفَرَۃ کو رکھا ہے اور بتایا ہے کہ اس کی بزرگی کا ذریعہ اللہ تعالیٰ سَفَرَۃ کو بنائے گا۔سَفَرَۃ کے معنے یا مسافر کے ہوتے ہیں یا پھر کاتب کے ہوتے ہیں۔پہلے معنوں کے لحاظ سے اس میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن دنیا میں یکدم پھیل جائے گا کیونکہ وہ اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا جو مسافر ہوں گے۔مطلب یہ کہ مسلمان اس کو لے کر نکل جائیں گے اور دنیا کے کونہ کونہ میں اس کی تعلیم پہنچا دیں گے۔چنانچہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے معًا بعد کچھ صحابہ ایران میں چلے گئے۔کچھ افغانستان میں چلے گئے کچھ چین کی طرف نکل گئے۔کچھ جز ائر کی طرف چلے گئے اور اس طرح ایک طرف چین کے انتہائی کناروں تک اور دوسری طرف الجزائر تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ کی زندگی میں ہی قرآن پھیل گیا۔گویا جتنی معلومہ دنیا تھی اُس میں قرآن کی تعلیم صحابہ ؓکے ہاتھ سے پھیل گئی بلکہ بعض ممالک کے لوگ اب تک اس بات کے مدعی ہیں کہ صحابہؓ کی لائی ہوئی قرآن کی کاپیاں اُن کے پاس موجود ہیں۔توفرماتا ہے بِاَیْدِیْ سَفَرَۃ یہ قرآن اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا جو بڑے سفر کرنے والے ہوں گے اور اس طرح قرآن کی اشاعت کا کام سرانجام دیں گے۔سَفَرَۃ کے لفظ میں قرآن کے لکھے جانے کی طرف اشارہ سَفَرَۃ کے ایک معنے چونکہ کاتب کے بھی ہیں اس لئے بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کہہ کر قرآن کریم کے لکھنے کی طرف اشارہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ قرآن اُن لوگوں کے ہاتھ میں جائے گا جو کاتب ہوں گے اور یہ قرآن صرف زبانوں پر ہی نہیں رہے گا بلکہ فوراً ضبط تحریر میں آجائے گا۔پس اس آیت سے صحابہؓ کے زمانہ میں ہی قرآن کریم کا لکھا جانا ثابت ہوتا ہے۔دشمن اعتراض کرتا ہے کہ قرآن کریم بعد میں لکھا گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ جس قوم کے ہاتھ میں ہم یہ قرآن دیں گے وہ اسے فوراً لکھ لے گی صرف زبانوں پر اسے نہیں رہنے دے گی۔عیسائی قرآن کریم کے متعلق ہمیشہ یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ قرآن کو بہت بعد میں لکھا گیا حالانکہ اُن کی اپنی کتاب انجیل کے متعلق تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ وہ ایک سو اسی سال کے بعد لکھی گئی۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف جن باتوں کو منسوب کیا جاتا ہے وہ بھی بہت