تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 254 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 254

دلوں میں یہ جذبہ پایا جاتا ہے کہ وہ قرآن پر عمل کریں اور خواہ کس قدر کوئی بے عمل ہو اُس کے دل کے اندرونی گوشوں میں یہ خواہش موجود ہوتی ہے کہ مَیں قرآن پر عمل کروں اور اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کروں۔یہ تو اِ س زمانۂ تنزّل کا حال ہے۔اپنے دَور میں تو قرآن پر وہ عمل ہوا ہے کہ جس کی کوئی حد ہی نہیں۔زندگی کے ہر شعبہ پر قرآن نے حکومت کی اور ایسی شاندار حکومت کی جس کی مثال دُنیا کی تاریخ میں اور کہیں نظر نہیں آتی۔مُّكَرَّمَةٍکے لفظ میں قرآن مجید کے محفوظ رہنے کی پیشگوئی دوسرے معنے مُکَرَّمَۃ کے مُنَزَّھَۃ عَنْ کُلِّ خَطَائٍ وَنَقْصٍ کے ہوتے ہیں کہ وہ چیز ہر قسم کی خرابی اور نقص سے پاک ہو۔یہ خوبی بھی قرآن میں پائی جاتی ہے کہ اِس میں کوئی غیر بات داخل نہیں۔اَور تو اَور قرآن کریم میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول کو بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔اگر کوئی حدیث ایسی ہو جو صحاح ستّہ میں سے ہر حدیث کی کتاب میں آتی ہو اور ہر محدّث اس حدیث کی صحت پر متفق ہو تو پھر بھی قرآن میں اُس حدیث کو درج نہیں کیا جا سکتا پس خدا نے قرآن کو ایسا بنایا ہے کہ وہ تمام قسم کی غیر باتوں سے پاک ہے یہاں تک کہ ہم دیکھتے ہیں دشمن سے دشمن کو بھی یہ تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ قرآن ہر قسم کی انسانی دست بُرد سے پاک ہے۔میور جیسا شدید دشمن اسلام بھی جو قرآن پر جگہ جگہ اعتراض کرتا ہے جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو اُسے سوائے یہ کہنے کے اور کوئی چارہ نہیں رہتا کہ قرآن جس شکل میں آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے تھا اسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔وہ اپنی کتاب میں ایک جگہ اس امر پر بحث کرتا ہے اور کہتا ہے فلاں پادری نے یہ کہا ہے اور فلاں پادری نے یہ لکھا ہے مگر وہ ان سب کےدلائل کو ردّ کرتا ہے اور کہتا ہے سچی بات یہ ہے کہ قرآن کریم سے متعلق ہم یقینی طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ جس شکل میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن دنیا کے سامنے پیش کیا تھا اُسی شکل میں آج بھی موجود ہے۔نولڈکے NOLDEKE مشہور جرمن مستشرق بھی قرآن کی اس خوبی کا اعتراف کرتا ہے اور باجود دشمن ہونے کے اُس نے بھی تسلیم کیا ہے کہ قرآن پر یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ وہ انسانی دستبرد کا شکا ر ہو گیا۔نولڈکے NOLDEKEاسلام کا دشمن ہے مگر تمام مستشرقینِ یورپ میں سب سے زیادہ تحقیق اُس نے کی ہے اور میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ صحیح حقیقت پر اُس کی غضب کی نظر پڑتی ہے۔معلوم ہوتا ہے اُس نے بڑے سچے طور پر قرآن پر غور کیا تھا۔وہ بھی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ میں یہ قطعًا مان نہیں سکتا کہ قرآن میں کوئی اور بات داخل کر دی گئی ہو وہ اسی طرح دوسرے لوگوں کے دخل سے پاک ہے جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پاک تھا وہ کہتا ہے تم بے شک یہ کہہ لو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قرآن بنایا مگر تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس قرآن میں کوئی تبدیلی ہو گئی۔جس طرح وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم