تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 256

بعد میں لکھی گئیں مگر قرآن کریم وہ کتاب ہے کہ جہاں اسے زبانی یاد کیا جاتا تھا وہاں یہ ایسے لو گوں کے ہاتھ میں بھی تھا جو سَفَرَۃ تھے اسے فوراً لکھ لیتے تھے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ صحابہ کرامؓ کی موجودگی میں ہی سارا قرآن لکھا گیا تھا۔اس میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ قرآن کی تمام دنیا میں عزت کی جائے گی کیونکہ وہ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ہو گا۔جو تعلیم کسی ایک ملک میں محدود ہو گی لازماً اُس کا اکرام اَور رنگ کا ہو گا۔اور جو سارے ملکوں میں ہوگی اس کا اکرام اور رنگ کا ہوگا۔پس چونکہ قرآن سفر کرنے والے لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا اس قرآن کی تکریم بھی ساری دنیا میں ہو گی۔کسی ایک ملک میں نہیں ہو گی۔پھر سَفَرَۃ کے معنے خالی لکھنے کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے مادہ میں انکشاف کے معنے بھی پائے جاتے ہیں پس بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کہہ کر اس امر کی طرف بھی اشارہ کیا گیا کہ اُسے ایسے لکھنے والے لکھیں گے جو اس کے مطالب کو واضح کریں گے اور اس کے اخلاق کو کھولیں گے گویا بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ کے معنے یہ ہوئے کہ قرآن اُن لوگوں کے ہاتھ میں ہو گا جو اس کی تفسیریں کرنے والے ہوں گے۔اس کے حقائق کو واضح کرنے والے ہوں گے اور اس کی پوشیدہ اور متعلق باتوں پر سے پردہ اٹھانے والے ہوں گے اور اس طرح قرآن نہ صرف خطاء لفظی سے پاک ہو گا بلکہ وہ خطاء معنوی سے بھی پاک ہو گا۔سَفَرَۃ چونکہ مُکَرَّمَۃ کے مقابل میںہے اس لئے اس آیت کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کریم کو ماننے والے اس کی بڑی عزّت کریں گے اور نہ صرف خود عزّت کریں گے بلکہ ساری دنیا میں پھیل کر ساری دنیا سے اس کی عزّت کرائیں گے۔تیسری طرف اس قرآن کو محفوظ رکھیں گے اور اس طرح قرآن کی عزّت میں اور بھی اضافہ ہو گا۔جیسے میں نےمیور (MUIR)اور نولڈکے (NOLDEKE) کے متعلق بتایا ہے کہ باوجود شدید دشمن اسلام ہونے کے وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ قرآن پوری طرح محفوظ ہے۔پس قرآن کے ضبط تحریر میں آجانے کی وجہ سے اس کے اعزاز میں اَور بھی اضافہ ہو گیا یہاں تک کہ دشمن بھی اس اعزاز کو تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکے۔پھر قرآنی معارف کی تشریح کے لحاظ سے بھی اس کی تکریم میں غیر معمولی اضافہ ہوا کیونکہ قرآن کی نہ صرف ظاہری حیثیت قائم رہی بلکہ اس کی معنوی حیثیت بھی قائم رہی۔اور اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں قرآن دیا جو اس کے اغلاق کو کھولنے والے اور اس کے مطالب کی وضاحت کرنے والے تھے۔اس میں اس امر کی طرف بھی اشارہ تھا کہ قرآن کی بولی دنیا میں بولی جائے گی یہ زبان زندہ رہے گی اور اس کے مضامین کو حل کرنے کے لئے لوگوں کو کسی قسم کی دقّت پیش نہیں آئے گی۔