تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 253

طرف اشارہ یہاں ایک لطیف قرآنی ترتیب کا منظر پیش کیا گیا ہے کہ ایک طرف تو قرآن کی یہ تین صفات بیان کی گئی ہیں (۱) مُکَرَّمَۃ (۲) مَرْفُوْعَۃ (۳)مَطَھَّرَۃ اور دوسری طرف وہ لوگ جنہوں نے حاملینِ قرآن بننا تھا اُن کی بھی تین صفات بیان کی گئی ہیں۔(۱)سَفَرَۃ(۲)کَرَام(۳)بَرَرَۃ قرآن کریم کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ مُکَرَّمَۃ ہے مُکَرَّمَۃٌ کے معنے عربی زبان میں مُعَظَّمَۃٌ وَمُنَزَّھَۃٌ عَنْ کُلِّ خَطَائٍ وَنَقْصٍ کے ہوتے ہیں یعنی ہر قسم کی خرابی اور نقص سے پاک۔گویا پہلی بات قرآن کریم کے متعلق یہ بتائی کہ وہ بزرگ کتا ب ہے اور دُنیا میں اس کی عزت کی جائے گی۔یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے کہ دُنیا میں جو بھی الہامی کتاب موجود ہے اس کی عزت اِس کتاب کو ماننے والے لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے لیکن اِس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ بعض کتابوں کو زیادہ عزت حاصل ہوتی ہے اور بعض کو کم عزت حاصل ہوتی ہے اور جب ہر الہامی کتاب کی اس کے ماننے والے عزت کرتے ہیں تو قرآن کریم کو خاص طور پر مُکَرَّمَۃ کہنا اِس امر کی طرف اشارہ کرتا تھا کہ یہ وہ کتاب ہے جس کی اور تمام الہامی کتابوں سے زیادہ عزت کی جائے گی۔کیونکہ وہ کتاب جس کی پہلے ہی عزت کی جاتی ہو جب اُس کے متعلق کہا جائے کہ وہ مُکَرَّمَۃ ہے تو لازمًا اس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کی عزت نسبتی طور پر دوسری کُتب سے بہت زیادہ کی جائے گی۔چنانچہ دیکھ لو دُنیا میں کوئی کتاب ایسی نہیں جس کی عزت قرآن کریم سے بڑھ کر کی جاتی ہو۔اِس کتاب کو لوگ حفظ کرتے ہیں۔یہ کتاب نمازوں میں پڑھی جاتی ہے۔اور پھر اس کتاب پر عمل کرنے والی قو م دُنیا میں موجود ہے اور کوئی کتاب ایسی نہیں جس پر عمل کرنے والی قوم دُنیا میں موجود ہو۔ویدؔ پر عمل کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے۔تورات پر عمل کرنے والے بہت شاذونادر دکھائی دیتے ہیں اور جو لوگ عمل کرتے ہیں ان کا عمل اِسی قسم کا ہوتا ہے جسے پنجابی میں ’’اَدھ پچدّھ‘‘ کہتے ہیں یعنی کِسی بات پر عمل کیا اور کسی پر نہ کیا۔انجیل تو عملی لحاظ سے بالکل ختم ہے ابھی گزشتہ دنوں انگلستان میں پادریوں نے انجیل کی تعلیم کے خلاف یہ فتویٰ دے دیا تھا کہ عورتیں ننگے سر گرجا میں جا سکتی ہیں۔ہمارے مبلغ مولوی جلال الدّین صاحب شمس ؔ نے اُن کو پکڑا کہ تم نے یہ کیا فتویٰ دے دیا تمہاری انجیلی تعلیم تو اس کے مخالف ہے۔مگر انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انہوں نے کہہ دیا شریعت لعنت ہے (گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳) جب شریعت اُن کے نزدیک لعنت بن گئی تو اُس پر عمل کرنے کی تحریک اُن کے دلوں میں کس طرح پیدا ہو سکتی ہے۔صرف قرآن ہی ایک ایسی کتاب ہے جس پر اس تنزّل کے زمانہ میں بھی عمل کیا جاتا ہے۔ہم خواہ غیر احمدیوں کو کچھ کہیں اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ لاکھوں کروڑوں مسلمان آج بھی ایسےنظر آتے ہیں جن کے