تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 252 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 252

کی تعلیمیں جمع تھیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صحیفہ کو بھی اسی لئے صحف کہا گیا کہ اُس میں نوح ؑ اور بعض دوسرے انبیاء ؑکے صحیفے جمع تھے۔اور پھر قرآن کو بھی صحف کہا گیا کیونکہ قرآن وہ کتاب ہے جس نے آدمؑ سے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے والے تمام انبیاء کے صحف کو اپنے اندر جمع کر لیا اور کوئی تعلیم ایسی نہیں رہی جس کی بنی نوع انسان کو ضرورت ہو اور اس کا قرآن کریم میں ذکر نہ آتا ہو۔گویا جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء کہا گیا اِن معنوں میں کہ آپؐ کے وجود میںتمام انبیاؑء سابقین جمع ہو گئے تھے اسی طرح آپؐ کی کتا ب کو صحف کہا گیا کیونکہ اس میں تمام انبیائِ سابقین کے صحیفوں کو جمع کر دیا گیا تھا درحقیقت کوئی نبی دُنیا میں ایسا نہیں آیا جو اپنے ساتھ کوئی نہ کوئی صحیفہ نہ لایا ہو (مگر اس کے معنے یہ نہیں کہ وہ شریعت جدیدہ لایا یا احکام جدیدہ لایا۔صحیفہ سے مراد ایک پیغامِ حقیقت ہے جو اُس وقت کے مناسب حال ہو) اِسی وجہ سے قرآن کریم میں صُحفِ ابراہیم کا ذکر ہے۔حالانکہ وہ حامل شریعتِ جدیدہ نہ تھے۔حضرت نوحؑ کے تابع تھے جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے اِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِ بْرٰھِیْمَ (الصافات:۸۴)آدم ؑ مبعوث ہوا تو وہ اپنے ساتھ پہلا صحیفہ لایا۔اس کے بعد اگر نوح ؑ دوسرا نبی ہوا ہے تو نوح ؑ کا صحیفہ صحیفتین کہلائے گا کیونکہ اس میں آدم ؑ کا بھی صحیفہ تھا اور نوح ؑ کا بھی صحیفہ تھا۔پھر جوں جوں انبیاء ؑآتے گئے وہ اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی تعلیموں کے بھی حامل رہے یہاں تک کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپؐ کو جو کتاب دی گئی اُس میں تمام پہلے انبیاء کے صحیفوں کو شامل کر دیا گیا۔اس لئے وہ کتاب کوئی ایک صحیفہ نہیں بلکہ کئی صحف کا مجموعہ ہے اِسی لئے قرآن نے اس کے لئے فِیْ صُحُفٍِ مُّکَرَّمَۃٍ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے اِذَاالرُّسُلُ اُقِّتَتْ (المرسلات :۱۲)کہہ کر مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی بعثت کی طرف اشارہ کر دیا حالانکہ آنے والا صرف ایک رسول تھا مگر چونکہ اس کی رسالت میں گزشتہ تمام انبیاء کی رسالت بھی شامل ہو جانی تھی اور وہ ہر گزشتہ نبی کا بروز ہونے والا تھا اُسے رسول کی بجائے رُسل کہا گیا۔یہی وہ بات ہے جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جَرِیُّ اللّٰہِ فِیْ حُلَلِ الْاَنْبِیَاءِ (براہین احمدیہ چہار حصص روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۰۱ حاشیہ نمبر ۳)اللہ کا جری جو تمام انبیاء کا لباس پہن کر اس دُنیا میں آیا ہے۔اسی طرح قرآن ایک صحیفہ نہیں بلکہ وہ مجموعہ ہے اُن تمام تعلیموں کا جو گزشتہ انبیاء کو دی گئیں اور پھر وہ مجموعہ ہے اُ س زائد تعلیم کا بھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہےفِيْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ۔مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍۭ یہ قرآن ایسے صحف میں ہے جو مکّرمہ ہیں۔مرفوعہ ہیںاور مطّہرہ ہیں۔مُّكَرَّمَةٍ۔مَّرْفُوْعَةٍ مُّطَهَّرَةٍکے مقابل پر سَفَرَۃٍ،کِرَامٍ ،بَرَرَۃٍ لا کر ایک لطیف مضمون کی