تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 233
میرے نزدیک واقعہ یہ ہے کہ عبداللہ بن اُمّ مکتوم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے اور انہوں نے ایسے رنگ میں سوال کیا جو دوسروں کی دل شکنی کا باعث تھا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا کلام بھی قطع ہوتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن پر اپنی ناراضگی کو ظاہر نہیں ہونے دیا۔صرف اتنا ہوا کہ آپ نے ماتھے پر تیوری چڑھائی۔اور اُس کی طرف سے مُنہ پھیر لیا اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن کو ایک اندھا شخص دیکھ نہیں سکتا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی باتیں جاری رکھیں اور عبداللہ بن اُم مکتوم کی طرف کوئی توجہ نہ کی تو وہ غُصّہ میں اُٹھ کر چلے گئے۔ممکن ہے انہوں نے بعض اور لوگوں کے پاس بھی اس بات کو بیان کیا ہو اور ممکن ہے جن کے پاس انہوں نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہو ان کی طبیعت بھی اسی قسم کی جوش والی ہو اور ان کے دل میںبھی یہ میں خیال پیدا ہوا ہو کہ یہ بات اچھی نہیں ہوئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری طرف توجہ کرنی چاہیے یہ خبیث دشمن کون ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آکر بیٹھ جاتے ہیں اور آپ کے وقت کو ضائع کرتے ہیں۔پس عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا گیا ہے اور مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤى میں عبداللہ بن ام مکتوم کی طرح کے خیالات رکھنے والے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہمارے اس رسول نے ایک اندھے کے بیجا دخل دینے پر عبوست کی اور بڑے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا ثبوت دیا اور ہمارے اس رسول نے صرف تولّٰی کی اور بڑے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کا ثبوت دیا تا کہ غصّہ اور ناراضگی کی حالت میں بات بڑھ نہ جائے۔٭ ٭نوٹ: عَبَسَ وَ تَوَلّٰی سے کَلَّا اِنَّھَا تَذْکِرَۃٌ تک کی آیات کا ترجمہ متن میں اس مضمون کے مطابق نہیں کیا گیا جو آیت نمبر۲ ،۳میں بیان ہو چکا ہے ان آیات کا ترجمہ ایک اور مضمون کے مطابق کیا گیا جو کہ آیت نمبر ۱۲ کے ماتحت درج کیا گیا ہے۔آیت نمبر۲،۳ کے ماتحت کی گئی تفسیر کے مطابق ان آیات کا ترجمہ یوں ہو جاتا ہے۔’’وہ چیںبجبیں ہوا اور (اس کی طرف سے) مُنہ موڑ لیا۔اس وجہ سے کہ اس کے پاس ایک نابینا (جسے واقف لوگ جانتے ہیں) آیا اور اے معترض کون سی بات تجھے (اس پر) آگاہ کر سکتی ہے کہ وہ ضرور پاک ہو جائے گا یا (موجبات عبرت کو) یاد کرے گا تو (یہ)یادکرنا اُسے نفع بخش دے گا وہ شخص جو بے پروائی کرتا ہے تو تُو (اس کی طرف) خوب توجہ کرتا ہے حالانکہ تجھ پر (اس وجہ سے) کوئی الزام نہیں کہ وہ پاک نہ ہو گا۔اور جوتیری طرف دوڑتا ہواآتا ہے اور وہ (ساتھ ہی خُدا سے) ڈرتا بھی ہے تو تُو اس سے بے اعتنائی کرتا ہے۔ہرگز نہیں یقیناً یہ (قرآن) تو ایک نصیحت ہے۔‘‘