تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 234
وَ مَا يُدْرِيْكَ لَعَلَّهٗ يَزَّكّٰۤىۙ۰۰۴اَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنْفَعَهُ اور (اے رسول) کون سی بات تجھے(اس پر)آگاہ کر سکتی ہے کہ وہ ضرور پاک ہو جائے گا یا (موجبات عبرت کو) الذِّكْرٰىؕ۰۰۵ یاد کرے گا تو (یہ) یاد کرنا اُسے نفع بخش دے گا۔٭ حَلّ لُغَات۔مَایُدْرِیْکَ۔یُدْرِیْکَ یُدْرِیْ اور ک سے مرکب ہے۔یُدْرِیْ اَدْرٰی کا مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور کاف ضمیر کا ہے۔اَدْرٰی کے معنے ہیں اَعْلَمَہُ۔اُس کو بتایا (اقرب) یُدْرِیْکَ کے معنے ہوں گے اس نے تجھ کو بتایا ہےاور مَا یُدْرِیْکَ کے معنے ہوں گے کس نے تجھے بتایا ہے؟ نیز عرب لوگ جب کہتے ہیں مَایُدْرِیْکَ تو بسا اوقات مراد یہ ہوتی ہے کہ مَاتَدْرِیْ یعنی تو نہیں جانتا۔تجھے اس کا علم نہیں؟ یَزَّکّٰی یَزَّکّٰی اصل میں یَتَزَّکّٰی ہے تاء کا زاء میں ادغام کر دیا گیا اور یَتَزَّکّٰی سے یَزَّکّٰی ہو گیا۔تَزَکّٰی فُلَانٌ کے معنے ہوتے ہیں۔صَارَزَکِیًّا وہ پاک ہو گیا (اقرب) اور یَتَزَکّٰی کے معنے ہوں گے۔وہ پاک ہو جاتا ہے۔اور لَعَلَّہٗ یَتَزَّکّٰی کے معنے ہوں گے کہ اُس کے لئے ممکن ہے کہ وہ ہدایت پا جائے۔یَذَّکَّرُ۔یَذَّکَّرُ اصل میں یَتَذَکَّرُ ہے۔تَاء کو ذال میں ادغام کر دیا گیا۔اور یَذَّکَّرُ ہو گیا۔یَتَذَکَّرُ تَذَکَّرَ سے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور تَذَکَّرَ الشَّیْئَ کے معنے ہیں حَفِظَہُ فِیْ ذِھْنِہٖ کسی چیز کو اپنے ذہن میں محفوظ کر لیا۔اور جب تَذَکَّرَ مَا کَانَ قَدْ نَسِیَ کہیں تو معنے ہوں گے فَطِنَ بِہٖ کسی بھولی ہوئی بات کو یاد کر لیا۔(اقرب) پس یَتَذَکَّرُ کے معنے ہوں گے۔کسی نصیحت والی بات کو ذہن میں وہ مخفوظ کر لے (۲) یا کسی نصیحت والی بُھولی ہوئی بات کو یاد کر لے۔تفسیر۔اس آیت کے صاف معنے یہ ہیں کہ تجھ کو کس نے بتایا کہ وہ شخص ہدایت پا جاتا۔مگر مفسّرین اس کے معنے یہ کرتے ہیں کہ تجھ کو کس نے بتایا کہ وہ ہدایت نہ پاتا۔پھر وہ کہتے ہیں مَایُدْرِیْکَ الگ جملہ ہے اور لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی الگ جملہ ہے۔گویا اس کے معنے وہ اس رنگ میں کرتے ہیں کہ مَایُدْرِیْکَ تجھے کس نے بتایا ہے کہ وہ ہدایت نہ پاتا لَعَلَّہٗ یَزَّکّٰی شاید وہ ہدایت پا جاتا۔حالانکہ اس آیت کے صاف معنے یہ ہیں کہ تجھے کس نے بتایا کہ وہ شخص ضرور ٭نوٹ۔لَعَلَّ کا ترجمہ ’’ضرور‘‘ کے لفظ سے کیا گیا ہے اس لئے کہ لَعَلَّ کلام ملوک کے طور پر استعمال ہوتا ہے یعنی بادشاہ کے لئے کوئی اور یا بادشاہ اپنی نسبت خود امید اور توقع کے الفاظ استعمال کرتا ہے لیکن مراد اس سے یقینی بات یا حکم کے ہوتی ہے۔