تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 232
لئے اُسے اس بات کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ لوگوں پر اس کی بات کا کیا اثر ہو رہا ہے۔غرض عبداللہ بن اُم مکتوم رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آئے اور جب انہوں نے دیکھا کہ آپ اشد ترین دشمن کفار کو تبلیغ کر رہے ہیں تو اُن کی طبعیت میں سخت جوش پیدا ہوارسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں اور اُن سے بھی یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ تم یہاں سے نکلو تمہارا یہاں کیا کام؟ آخر انہوں نے سوچ کر یہی کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہنا شروع کر دیا کہ یارسول اللہ! اَقْرِئْنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ تَعَالیٰ اور اس کو بار بار دُوہرایا اُن کی یہ بات رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو پسند نہ آئی۔دوسری طرف آپ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ اُن کا دل ٹوٹے اس لئے اُس وقت آپ نے عبوس اور تولّی سے کام لیا۔آپ نے خیال فرمایا کہ آخریہ کفار کے رئوساء کیا کہیں گے کہ یہ مسلمان ایسے تہذیب سے ناآشنا ہیں کہ آداب مجلس کا بھی خیال نہیں رکھتے اور یہ بھی نہیں دیکھتے کہ کوئی شخص اُن کے پاس اُن کی باتیں سُننے کے لئے آیا ہوا ہے۔خواہ وہ منافقت سے آئے تھے۔خواہ دل میں وہ آپ کی باتوں کو جھوٹا ہی کہتے جاتے تھے مگر چونکہ وہ ظاہر یہ کرتے تھے کہ ہم اسلام کی باتیں سننے کے لئے آئے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سمجھتے تھے کہ ان کو تبلیغ کرنا ضروری ہے اس لئے آپ نے ابن اُم مکتوم کی دخل اندازی پر عبوس کیا اور تولّی کی۔اس واقعہ کی طرف ان آیا ت میں اشارہ کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى ہمارے رسول نے عبوس کیا اور تولّٰی کی۔اَنْ جَآءَهُ الْاَعْمٰى اس موقعہ پر کہ آپ کے پاس ایک اندھا آیا۔اَلْاَعْمٰی کا لفظ بھی بتلاتا ہے کہ یہاںکسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اَلْاَعْمٰی سے کوئی خاص اندھا مراد ہے۔اگر اس جگہ اس اندھے کی تعریف کرنے کا موقعہ ہوتا اور یہ کہنا ہوتا کہ اُس اندھے کی طرف کیوں توجہ نہیں کی گئی یا اُس اندھے نے جو فعل کیا تھا وہ بڑا قابل تعریف تھا تو بجائے اَلْاَعْمٰی کہنے کے اس کا نام لیا جاتا اور کہا جاتا کہ فلاں شخص آیا مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے عبوس اور تولّٰی سے کام لیا۔لیکن اس جگہ چونکہ زد ایک اندھے پر پڑتی تھی اس لئے اس کا نام نہیں لیا گیا اور اَعْمٰی کہہ کر اشارہ کر دیا کہ یہاں ایک خاص واقعہ کا ہم ذکر کر رہے ہیں۔اس وجہ سےاَعْمٰی کے ساتھ اَلْ لگا دیا۔اوراس طرح ایک مخصوص اندھے کی طرف اشارہ کیا گیا پس اللہ تعالیٰ کا اَلْاَعْمٰی کہنا بتا رہا ہے کہ اس واقعہ کی زد اُس اعمیٰ پر ہی پڑتی تھی تبھی اُس کا نام نہیں لیا گیا۔ورنہ اگر یہ تعریف کا موقع ہوتا تو اللہ تعالیٰ ضرور نام لیتا۔اور کہتا کہ عَبَسَ وَتَوَلّٰٓی اَنْ جَآئَ ہُ عَبْدُاللّٰہِ ابْنُ اُمِّ مَکْتُوْمٍ۔مگر اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کیا۔اِدھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے متعلق صرف عَبَسَ وَ تَوَلّٰۤى کے الفاظ رکھ دئے کیونکہ ان دونوں میں آپ کے اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی تعریف کی گئی ہے۔