تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 231
کی باتیں سمجھانا اپنے وقت کو ضائع کرنے کے مترادف ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ عبداللہ بن ام مکتوم کی طبیعت بھی ایسی ہی ہو گی۔جب وہ وہاں پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم عتبہ اور شیبہ اور ابو جہل اور امیہ اور ولید وغیرہ کو تبلیغ کر رہے ہیں تو اُن کا جوش بھڑک اٹھا اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ خبیث دشمن جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو دن رات گالیاں دینے والے ہیں آپ کی مجلس میں آ کر کیوں بیٹھے ہیں یہ تو جہنم کی آگ کے مورد ہیں ان کا خدا اور اس کے رسول کی باتوں سے کیا تعلق ہے اور ان پر اپنے وقت کو ضائع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔یہ اُ ن کے دل کے خیالات تھے اور انہی خیالات کے نتیجہ میں انہوں نے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں دخل دینا شروع کر دیا کہ یا رسول اللہ! آپ عتبہ اور شیبہ اور ابوجہل وغیرہ کو اسلام کی باتیں کیوں بتا رہے ہیں اَقْرِئْنِیْ وَعَلِّمْنِیْ مِمَّا عَلَّمَکَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔ان کو دفع کریں اور میری طرف آپ توجہ کریں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اُن کا اس طرح دخل دینا سخت ناگوار گزرا کہ باہر سے مہمان آئے ہوئے ہیں میں اُن سے گفتگو کر رہا ہوں اور میرا ہی ایک مرید حد سے متجاوز ہوتا جا رہا ہے اور ایسا رویّہ اختیار کر رہا ہے جو ان مہمانوں کی دل آزاری اور دل شکنی کا موجب ہے۔اور گو انہوں نے اس وقت کفار کو کوئی گالی نہیں دی مگر بہرحال جب انہوں نے کہہ دیا کہ آپ میری طرف توجہ کریں تو اس کے معنے یہی تھے کہ ان لوگوں کوآپ دفع کریں یہ تو اسلام کے شدید دشمن ہیں انہوں نے اسلام کے احکام کو کہاں ماننا ہے۔مگر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ یہ لوگ خواہ مانیں یا نہ مانیں میرا فرض ہے کہ میں ان کے کانوں تک تمام باتیں پہنچا دُوں اور خدا کے حضور بری الذمہ ہو جائوں۔غرض عبداللہ بن ام مکتوم نے اپنے جوش میں ایک ایسی حرکت کی جو عقل اور تہذیب کے بالکل خلاف تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تبلیغ کر رہے تھے تو اُن کا کوئی حق نہیںتھا کہ وہ یہ سمجھ لیتے کہ ان کو تبلیغ بے فائدہ ہے آپ کو چاہیے اُن کو چھوڑ کر میری طرف توجہ کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ لوگ بعد میں واقع میں جہنمی ہی ثابت ہوئے اور رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے مگر اُس وقت تو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کا یہی فرض تھا کہ آپ آنیوالے مہمانوں کی عزت کریں۔ان کی طرف توجہ کریں اور اُن سے عزت واحترام کے ساتھ باتیں کریں۔لیکن عبداللہ بن اُم مکتوم کے دل میں خدا تعالیٰ کے احکام کا وہ ادب نہیں ہو سکتا تھا جو رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دل میں تھا۔اور نہ اُن کو اکرامِ ضعیف کا اس قدر احساس ہو سکتا تھا جتنا رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو اس کا احساس تھا خصوصًا اندھے میں تو یہ احساس بہت کم ہوتا ہے چونکہ اسے کچھ نظر نہیں آتا اس لئے وہ دوسروں کو کھری کھری سُنا دیتا ہے۔ہمارے ملک میں بھی کہتے ہیں کہ اگر کھری کھری باتیں سُننی ہوں تو کسی اندھے سے جا کر سُن لو۔اسکی وجہ یہی ہے کہ چونکہ اندھے کو نظر نہیں آتا اس