تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 18
وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاۙ۰۰۹ اور (پھر )ہم نے تم (سب لوگوں) کو جوڑا (جوڑا) بنایا ہے۔حل لغات۔اَ زْوَاجًا: اَزْوَاجٌ زَوْجٌ کی جمع ہے اور زَوْجٌ کے معنے ہیں کُلّ وَاحِدٍ مَعَہٗ اٰخَرُ مِنْ جِنْسِہٖ۔ہر ایک وہ چیز جس کے ساتھ اس کی جنس میں سے ایک اور وجود بھی ہو۔اَلصِّنْفُ مِنْ کُلِّ شَی ئٍ۔ہر چیز کی قسم۔صنف۔اَلْبَعْلُ۔خاوند۔اَلزَّوْجَۃُ۔بیوی۔(اقرب) تفسیر۔وَ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًاکی پہلی تشریح فرماتا ہے اِدھر ہم نے یہ سامان پیدا کر دیا کہ زمین کو ہم نے ایسا بنایا جسے تم بستر کے طور پر استعمال کرتے ہو۔پھر ہم نے پہاڑوں کو بنایا جو تمہارے لئے سہارے کا بھی موجب ہیںاور وہ زمین کی حرکت مُضِرہ کو بھی روکنے کا ذریعہ ہیں دوسری طرف ہم نے تمھارے اندر یہ بات رکھ دی ہے کہ خَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا۔ہم نے تم کو زَوْج بنایا ہے۔زَوْجٌ کے معنے جوڑے کے ہوتے ہیںچنانچہ نر کو بھی زوج کہتے ہیںاور مادہ کو بھی زوج کہتے ہیں۔ہمارے ملک میں جس کو زوجہ کہتے ہیں عربی زبان میں اُسے زَوْج بھی کہہ سکتے ہیں اور زَوْجَۃ بھی کہہ سکتے ہیں۔ایک انسان اپنی بیوی کے متعلق یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ ھِیَ زَوْجِیْ یہ میری بیوی ہے یہ ضروری نہیں کہ وہ ھِیَ زَوْجَتِیْ کہے۔اسی طرح زوج کا لفظ مرد کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے چنانچہ ایک عورت اپنے خاوند کے متعلق بھی کہہ سکتی ہے کہ ھُوَ زَوْجِیْ پس خَلَقْنٰکُمْ اَزْوَاجًا کے معنے یہ ہوئے کہ خدا نے تم کو جوڑا بنایا ہے یعنی نر و مادہ کی صورت میں اس نے تم کوپیدا کیا ہے گویا ایک طرف زمین میں یہ قابلیت رکھی ہے کہ تم اس کی طرف اُسی طرح لوٹتے ہو جیسے بستر کی طرف جس طرح انسانی جسم میں جب تھکان پیدا ہو جائے تو وہ آرام کے لئے اپنے بستر کی طرف جاتا ہے اسی طرح جب بھی تمہیں کوئی ضرورت محسوس ہوتی ہے یا تمہیں کسی تکلیف کا احساس ہوتا ہے تم زمین کی طرف توجہ کرتے ہواور تمہیں اپنی تمام ضروریات زمین میںسے حاصل ہو جاتی ہیں مثلاً غذا ہے انسان کو کھانے کے لئے جس چیزکی بھی ضرورت ہو زمین سے وہ مہیا ہو جاتی ہے۔اسی طرح لباس ہے اللہ تعالیٰ انسان کی اس ضرورت کوبھی زمین سے ہی پورا کرتا ہےغرض انسان جب بھی کوئی ضرورت محسوس کرتا ہے۔زمین سے اللہ تعالیٰ اس کی وہ ضرورت پوری کر دیتا ہے اور وہ اسی طرح زمین سے آرام حاصل کرتا ہے جس طرح بستر سے انسانی جسم راحت حاصل کرتا ہے۔پھرجِبَال بھی زمین کے لئے تقویّت اور سہارے کا موجب ہیں۔درحقیقت زمین میں بعض نقائص ایسے تھے جن کے ازالہ کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا سلسلہ جاری کر دیا۔اگر پہاڑ نہ ہوتے توزمین