تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 19
کئی فوائد سے محروم رہ جاتے۔مثلاًپہاڑوں کا یہ بہت بڑا فائد ہ ہے کہ وہ اس پانی کو جو زمین کی زندگی کا ذریعہ ہے جمع رکھتے ہیں کیونکہ برف پہاڑ کی چوٹیوں پر ہی پڑتی ہے اور پھر وہ برف پگھل کر زمین کے لئے سال بھر کے لئے پانی مہیا کر دیتی ہے۔اسی طرح قسم قسم کی بُوٹیاں ہیں جو پہاڑوں پر پیدا ہوتی اور بنی نوع انسان کے کام آتی ہیں۔زمین کو انسان چونکہ اپنی رہائش کے لئے آباد کرتا ہے اس لئے وہ پروا نہیں کرتا کہ زمین کو قابل رہائش بنانے کے لئے وہ کون کون سی چیزیں تلف کر رہا ہے جب بھی اُسے اپنی رہائش کے لئے یا اپنے اور کاموں کے لئے زمین کی ضرورت محسوس ہوتی ہے وہ بلا دریغ اُن سب چیزوں کو تلف کر دیتا ہے جو زمین پر موجود ہوتی ہیں۔اگر درخت اُگے ہوئے ہوں تو ان کو کاٹ دیتا ہے بوٹیاں موجود ہوں تو اُن کو اُکھیڑ دیتا ہے کیونکہ اُسے ضرورت ہوتی ہے کہ اپنی رہائش کے لئے زمین کو صاف کرے۔پس چونکہ زمین کو انسان نے آباد کرنا تھا اس میں اپنی رہائش کے لئے اُس نے مکان بنانے تھے۔سڑکیں بنانی تھیں۔کھیت بونے تھے۔رستے تیا ر کرنے تھے اور یہ چیزیں تقاضا کرتی تھیں کہ زمین صاف ہو اس لئے انسانی عادت میں یہ بات داخل ہے کہ وہ زمین کو بالکل صاف کر دیتا ہے اور تما م روئیدگیوں وغیر ہ کولغو سمجھ کر کاٹ دیتا ہے۔حالانکہ ان بوٹیوں میں جن کو کاٹ رہا ہوتا ہے اور جن کو وہ بالکل لغو اور بیکا ر سمجھ رہا ہوتا ہے ہزاروں بوٹیاں ایسی ہوتی ہیں جو نہایت ہی مفید ہوتی ہیں اور کئی قسم کی بیماریوں کو دُور کرنے کاذریعہ ہوتی ہیں پس اگر میدان ہی میدان ہوتے تو اس کالازمی نتیجہ یہ ہوتا کہ انسان ساری چیزیں اُکھیڑ دیتا۔حالانکہ اُن میں بیسیوں چیزیں ایسی ہو سکتی تھیں جو اس کے لئے نہایت مفید ہوتیں۔اس نقص کودُور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے پہاڑ بنا دئیے ہیں۔وہاں جس طرح پانی محفوظ ہوتا ہے (کیونکہ برف پہاڑوں پر ہی پڑتی ہے) اسی طرح ہزاروں قسم کی بوٹیاں جو انسانی صحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی ہیں اور جو اگر ہموار زمین پر ہوتیں تو انسان اُن کو کاٹ کر فنا کر چکا ہوتا وہاں محفوظ رہتی ہیں اس طرح پہاڑ زمین کے لئے سہارے کا موجب بن جاتے ہیں۔ان امور کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَّ خَلَقْنٰكُمْ اَزْوَاجًا۔ہم نے تمہیں نر اور مادہ بنایا ہے جس کی وجہ سے تمہاری نسل چلتی ہے۔یعنی ایک طرف زمین میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے بے انتہا فوائد جو زمینی قوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نہ ختم ہونے والے ہیں رکھے ہیں اور دُوسری طرف اُس نے جِبَال بنائے ہیںجن سے یہ فوائد عملی صورت میں بھی مستقل ہو جاتے ہیں۔گویا زمین بھی فائدے کا موجب ہے اورجِبَال بھی فائد ے کا موجب ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ جِبَال زمین کے فوائد کو مستقل حیثیت دےدیتے ہیں پس ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم الشان سلسلہ تمہارے لئے جاری کیا ہوا ہے دوسری طرف تمھار ی نسل قائم کرنے کے لئے اس نے تمہیں اَزْوَاج یعنی نر و مادہ بنا دیا ہے۔اب کیا