تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 214
لئے یوں فرمایا کہ ان لوگوں میں سے بعض تو شام تک پہنچے اور بعض دوپہر تک ہی پہنچے تھے کہ ہلاک ہوگئے۔اسی مناسبت سے جہاں یوم اور بعض یوم کے الفاظ استعمال کئے ہیں وہاں بھی یوم کا ذکرپہلے کیا ہے اور بعض یوم کا بعد میں۔پس ضُحٰھَا کو بعد میں قافیہ کی غرض سے بیان نہیں کیا۔بلکہ اس لئے بعد میں بیان کیا ہے کہ ضحی چھوٹے عرصہ پر دلالت کرتا ہے اور اس مقام پر لمبے عرصہ کا ذکر پہلے اور چھوٹے کا بعد میں ہی مناسب ہے کیونکہ لمبا عرصہ گزارنا چھوٹے عذاب پر دلالت کرتا ہے اور تھوڑا عرصہ گزارنا بڑے عذاب پر۔اور ترتیب مناسب یہی ہے کہ جب عذاب کا ذکر ہو تو پہلے چھوٹے عذاب کا ذکر کیا جائے اور بعد میں بڑے عذاب کا۔تا تدریج و ترتیب مد نظر رہے۔بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اسلام کی عظمت اور اس کی ترقی کی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ کفر کا زمانہ بالکل سُکڑ جائے گا اور اسلام کا زمانہ اتنا پھیلے گا۔اتنا پھیلے گا کہ اسلامی ترقی کے زمانہ کےمقابلہ میں کفار کو اپنا زمانہ ایسا ہی نظر آئے گا جیسے انسانی عمر کے مقابلہ میں ایک عشیّہ یا ضحی کی حیثیت ہوتی ہے۔خ خ خ خ