تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 215

سُوْرَۃُ عَبَسَ مَکِّیَّۃٌ سورۃ عبس۔یہ سورۃ مکّی ہے وَھِیَ اثْنَتَانِ وَ اَرْبَعُوْنَ آیَة دُوْنَ الْبَسْمَلَةِ وَ فِیْھَا رُکُوْ عٌ وَّاحِدٌ اور اس کی بسم اللہ کے بغیر بیالیس آیتیں ہیںاور ایک رکوع ہے۔۱؎ سورۃ عبس مکّی ہے ۱؎ سورۃ عبس مکی سورۃ ہے اور بہت ہی ابتدائی سورتوں میں سے ہے(روح المعانی تفسیر سورۃ عبس)۔یوروپین مصنّفین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ یہ ابتدائی مکّی سورۃ ہے چنانچہ نولڈک NOLDEKE جرمن مستشرق ابتدائی زمانہ کی بھی ابتدائی سورتوں میں اس کو شامل کرتاہے۔میور MUIRبھی اِسے اُن پہلی سورتوں میں سے قرار دیتا ہے(Wherry Commentery on Quran vol۔4 pg 218) جنہیں کفار پر ظاہر کیا گیا یعنی پہلی چند سورتوں کے متعلق مستشرقین کا خیال ہے کہ اُن کا اعلان اُن سورتوں کے نزول کے وقت ہی نہیں ہوا بلکہ کچھ عرصہ بعد ہوا۔پس میور کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی چند سورتوں کے بعد یہ نازل ہوئی۔سورۃ عبس کا پہلی سورۃ سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ کے ساتھ ایک تو قریبی تعلق ہے اور ایک سارے مضمون کے لحاظ سے۔قریبی تعلق تو یہ ہے کہ پچھلی سورۃ کی آخری آیت سے پہلی آیت میں یہ مضمون تھا کہ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا۔کہ ڈرانا اسی کو مفید ہو سکتا ہے جو یَوْمُ الْحِسَاب یا انجامِ اعمال سے ڈرتا ہو۔یَخْشٰھَا کی ضمیر سَاعَۃٌ کی طرف جاتی ہے اور ہم سَاعَۃٌ کے دونوں معنے کرتے ہیں۔حیات بعد الموت بھی اور غلبہ اسلام یا غلبہ قرآن بھی۔پس اس میں ان دونوں باتوں کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُنْذِرُ مَنْ يَّخْشٰىهَا۔(النازعات:۴۶) جو شخص حیات بعد الموت سے خوف رکھتا ہو یا اپنے اعمال کےانجام سے ڈرتا ہو کہ جو اعمال میں کر رہا ہوں اُن کے نتیجہ میں تو اسلام جیتتا نظر آتا ہے اور میں ہارتا دکھائی دیتا ہوں اُس شخص کو یہ انذار مفید ہو سکتا ہے چنانچہ اسی لحاظ سے اب اس سورۃ میں ذکر فرماتا ہے کہ اُن لوگوں کی طرف زیادہ توجہ کرو جو حق کو غور سے سُننے کے شائق ہیں اور حق کی قبولیت کا استحقاق اپنے اندر رکھتے ہیں۔حق کی قبولیت کا ستحقاق کئی طرح سے ہوتا ہے۔اوّلؔ اعمال سے یعنی ایک شخص کے اندر جہاں تک اُس کا ایمان ہے خشیۃ اللہ پائی جاتی ہے یا سنجیدگی پائی جاتی ہے اور وہ دین کی باتوں کو غور سے سُنتا ہے اور یا پھر قومی استحقاق اس طرح ہوتا ہے کہ جب بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے انبیاء آتے ہیں بالعموم ادنیٰ اور غریب طبقہ کے لوگ اُن کی طرف آتے ہیں گویا انبیاء کی بعثت پر