تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 213
محمدصلے اللہ علیہ وسلم کی عشیّہ یا ضحی جتنی رہ جائے گی۔عَشِیّۃ کو پہلے اور ضُحٰیکو بعد میں بیان کر نے کی حکمت ضُحٰھَا کی ضمیر عَشِیَّۃ کی طرف جاتی ہے اور سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دوپہر تو پہلے آتی ہے اور شام بعد کو پھر اس جگہ عَشِیّۃ کو پہلے اور ضحی کو بعد میںکیوں بیان کیا گیا ہے؟ وہ لوگ جو قرآن کریم کی حکمتِ کاملہ اور فصاحت فوق البشریّہ پر پوری آگاہی نہیں رکھتے کہہ دیں گے کہ قافیہ کے لئے ایسا کر دیا گیا ہے چونکہ پہلی آیتوں کا خاتمہ مُرْسٰھَا۔ذِکْرٰھَا مُنْتَھٰھَا۔یَخْشٰھَا کے الفاظ پر ہوا تھا وزن ملانے کے لئے یہاںبھی عَشِیَّۃ کو پہلے کر دیا گیا ہے اور ضُحٰھَا کو بعد میں رکھ دیا گیا ہے۔مگر فصاحت قرآنیہ اور اس کے معجزۂ بیان کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے یہ جواب صحیح نہ ہو گا۔قرآن کریم صرف لفظی رعایت کی وجہ سے مضمون کو کبھی نہیں بگاڑتا۔اصل بات یہ ہے کہ دن یا بعض حصّۂ دن تھوڑے وقت کے بیان کرنے کے لئے قرآن کریم میں آتا ہے جیسے کہ سورہ مومنون آیت ۱۱۴ میں کفار کی نسبت آیا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم یَوْمًا اَوْبَعْضَ یَوْمٍ دنیا میں رہے۔وہی محاورہ دوسرے الفاظ میں اس جگہ بیان ہوا ہے دن کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے چوبیس گھنٹوں کے وقت کو بھی دن کہتے ہیں اور صبح سے شام تک کے وقت کو بھی دن کہتے ہیں ان آیات میں صبح سے شام تک کے وقت کا نام دن رکھا گیا ہے اور صبح سے شام تک کے وقت میں لمبا وقت وہ ہے جو شام کو ختم ہو اور چھوٹا وقت وہ ہے جو دوپہر کو ختم ہو۔چونکہ اس جگہ یہ امر بتانا مقصود ہے کہ کفّار کی سب ترقیات ہیچ اور لغو تھیں کیونکہ انجام سزا اور عذاب کی صورت میںہوا۔اس لئے عَشِيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا کہہ کر بتایا گیا ہے کہ منکرین اسلام کا انجام دو طرح کا ہو گا۔بعض دشمن تو وہ ہیں جن کی مثال ایسی ہو گی کہ وہ اپنی دنیوی ترقیات کا زمانہ ختم کر چکے ہیں اور اپنی عمر کی شام کو پہنچ چکےہیں اور وہ اب اسلام سے ٹکر ا کر تباہ ہو جائیں گے لیکن بعض ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنی دنیوی ترقی کا زمانہ دیکھا بھی نہیں اب اُن پر جوانی کا زمانہ آیا ہے وہ بھی بوجہ اسلام سے ٹکرانے کے تباہ ہو جائیں گے گویا یہ لوگ شام کا مُنہ بھی دیکھنے نہ پائیں گے اپنی قومی زندگی کی دوپہر کوہی ہلاک ہو کر عبرت بن جائیں گے۔یہ وہی مضمون ہے جو کسی شاعر نے ان الفاظ میں باندھا ہے ؎ پھول تو دو دن بہارِ جانفزا دکھلا گئے حسرت اُن غنچوں پہ ہے جو بِن کھلے مرُجھا گئے غرض جب تباہی کا ذکر کرنا ہو تو بلاغت کا مطالبہ ہوتا ہے کہ پہلے لمبے زمانہ کا ذکر کیا جائے پھر چھوٹے کا۔اس