تفسیر کبیر (جلد ۱۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 615

تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 201

بتایا گیا تھا کہ ابھی تو تمہیں ایک ہی دھکّا لگا ہے۔آگے آگے دیکھو کہ تمہارے ساتھ کیا ہوتا ہے۔چنانچہ اس کے بعد تَتْبَعُھَا الرَّادِفَۃُ کے مطابق پے در پے کئی جنگیں ہوئیں اور رادفہ کے بعد رادفہ آئی۔اب فرماتا ہے ان متواتر اور مسلسل جنگوں کے بعد ایک طامۂ کبریٰ کا دن آنے والا ہے۔طامہ کبریٰ سے مراد اس دنیا کا عذاب اس طامۂ کبریٰ سے مراد فتح مکہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وہ طامۂ کبریٰ آئے گی تو اُس دن تمہیں اپنے اعمال کی حقیقت خوب اچھی طرح معلوم ہو جائے گی۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہاں دنیا کے عذاب کا ہی ذکر ہو ر ہاہے اگلے جہان کی قیامت اس سے مراد نہیں۔کیونکہ یہ وہ عذاب ہیں جن کے آہستہ آہستہ آنے کا ذکر ہو رہا ہے پہلے یوں ہو گا۔پھر یوں ہو گا اور پھر طامۂ کبریٰ کا دن آئے گا۔مگر اُخروی قیامت تو وہ ہےجو اچانک آجائے گی پس یہاں رجفۂؔ اور رادفہؔ اور طامۂ کبریٰؔ وغیرہ سے مراد وہ عذاب ہیں جو کفار پر آنے والے تھے۔چنانچہ پہلے بدر کی جنگ ہوئی اور پھر رادفہ کے بعد رادفہ آئی اور آخر مکہ فتح ہوا اور اسلام کا غلبہ ہو گیا۔اگر ان آیات کو اگلے جہان پر چسپاں کیا جائے تو پھر ہم یہ معنے کریں گے کہ مضمون کو یہاں دہرایا گیا ہے اور مختلف عذابوں کے نزول کے بعد فیصلے کا جو آخری دن آنے والا تھا اور جس میں عذاب نے اپنے کمال کو پہنچ جانا تھا اُس کو تامۂ کبریٰ قرار دیا گیا ہے لیکن بہرحال پہلا اشارہ دنیوی عذابوں کی طرف ہی ہے۔يَوْمَ يَتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ مَا سَعٰى ۙ۰۰۳۶ جس دن انسان اپنے کئے کو یاد کرے گا۔تفسیر۔طامہ کبریٰ کے آنے کا وقت۔جس دن انسان یاد کرے گا اُس کو جو اُس نے کوشش کی تھی یعنی انسان کو اپنے اعمال نظر کے سامنے رکھتے ہوئے یاد آجائے گا کہ اُس نے یہ کچھ کیا تھا اور اُسے یہ کچھ کرنا چاہیے تھا۔جب بھی انسان کے کسی بُرے فعل کا کوئی نتیجہ نکلتا ہے اور وہ دیکھتا ہے کہ اب مُجھے اُس کام کی وجہ سے سزا ملنے لگی ہے تو اُس وقت اُس کے دل میں یہ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اگر میں فلاں وقت یوں کرتا تو یوں ہو جاتا۔اگر اس طرح کام کرنے کی بجائے اُس طرح کرتا تو اور نتیجہ نکلتا۔یہ بات انسانی فطرت میں داخل ہے اور اللہ تعالیٰ اسی نے انسانی فطرت کا اس جگہ نقشہ کھینچا ہے۔میں سمجھتا ہوں دنیا میں ایک شخص بھی ایسا نظر نہیں آسکتا جو اپنے کاموں کے اچھے یا بُرے نتیجہ کے وقت یہ سوچتا