تفسیر کبیر (جلد ۱۱) — Page 200
جاتے اورجانور بھوکے مر جاتے۔یہی روحانی نظام کی کیفیت ہے اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی نظام قائم نہ کیا جاتا تو بڑے بڑے لوگ ساری دنیا کے حقوق دبا کر بیٹھ رہتے اور غریبوں کو لوٹ لیتے جیسے آجکل ہو رہا ہے کہ جرمنی چاہتا ہے ساری دنیا کی دولت میں کھینچ لوں۔انگلستان اور امریکہ والے چاہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھوں میں سب دنیاکی دولت ہو وہ دوسروں کو اُن کے حقوق تو دیتے ہیں مگر اپنا ساتھی یا دوست ہونے کی وجہ سے دیتے ہیں انسان ہونے کی حیثیت سے نہیں دیتے مگر اللہ تعالیٰ جس نظام کو قائم کرتا ہے اس میں چھوٹے بڑے۔امیر غریب ماتحت اور افسر سب کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے اور ہر ایک کو اُس کا جائز حق دلایا جاتا ہے۔فَاِذَا جَآءَتِ الطَّآمَّةُ الْكُبْرٰى ٞۖ۰۰۳۵ پس جب وہ بڑی آفت آئے گی۔حل لغات۔اَلطَّامَّۃُ:۔الطَّامَّۃُ طَمَّ سے ہے اور طَمَّ الْمَآئُ کے معنے ہوتے ہیں غَمَرَ یعنی کسی چیز کو پانی نے ڈھانپ لیا۔طَمَّ فُلَانٌ اَلْاِنَائَ کے معنے ہوتے ہیں مَلَأَہٗ اُس نے برتن کو پانی سے بھر دیا۔طَمَّ الشَّیْئُ کے معنے ہوتے ہیں عَلَا وَغَلَبَ وہ چیز اونچی ہو گئی اور غالب آگئی۔اور طَمَّ الْاَمْرُ کے معنے ہوتے ہیں تَفَاخَمَ وہ کام بہت زیادہ اور عظیم الشان صورت اختیار کر گیا۔(اقرب) اَلطَّامَّۃُ: اَلدَّاھِیَۃُ تَغْلِبُ مَا سِوَاھَا قِیْلَ لَھَا ذَالِکَ لِاَنَّھَا تَطَمُّ کُلَّ شَیْ ئٍ اَیْ تَعْلُوْہُ وَ تُغَطِّیْہِ یعنی طَامَّۃ اس سخت مصیبت کو کہتے ہیں جو باقی تمام مصیبتوں پر غالب آجائے اور جس کی وجہ سے اور تمام مصیبتیں انسان کو بُھول جائیں۔(اقرب) تفسیر۔یہاں خدا تعالیٰ نے احیاء روحانی اور بعث بعد الموت کے متعلق ایک اور دلیل پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ جو خدا اس دنیا میں اتنا بڑا انقلاب پیدا کر سکتا ہے جو کسی انسانی قیاس اور واہمہ میں بھی نہیں آسکتا تھا وہ تمہیں مرنے کے بعد کیوں زندہ نہیں کر سکتا یا کیوں تم اس سے یہ نتیجہ نہیںنکال لیتے کہ اسلام کے غلبہ کے متعلق جو کچھ کہا جارہا ہے وہ بھی بالکل صحیح اور درست ہے۔پہلے فرمایا تھا فَاِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَّاحِدَةٌ۔فَاِذَا هُمْ بِالسَّاهِرَةِکہ ایک دن اچانک ہم کفار کو میدانِ جنگ کی طرف ہنکا کر لے جائیں گے اور یہ سب کے سب وہاں ننگے ہو جائیں گے اس میں جنگ بدر کی طرف اشارہ تھا اور